کلک

 May be an image of flower

 

 

 رات کو نیند ٹھیک طرح سے نہیں آ ئ ۔ نیند کا کیا گلہ کرنا یہ تو آے روز کی کہانی ہے اس عمر میں تو جو بھی ہے عنیمت جانیں۔ ہم بھی کہاں سے اپنا دکھڑا لے کر بیٹھ گئے۔ اور بھی غم ہیں زمانے میں نیند کے سوا۔ فون کی گھنٹی بج رہی ہے دیکھیں کون ہے اتنے سویرے۔

 شازیہ کی کال ہے کراچی سے۔ ان کے یہاں تو شام ہو رہی ہے خیریت تو ہے ابھی دو چار روز پہلے تو بات ہوئی تھی۔ ایک تو صبح اٹھتے ہیں تو ہر روز ایک نئی کہانی ہوتی ہے خبر نہیں ہوتی کہ آج جسم کا کون سا عضو کیا منظر پیش کرے گا۔

امیتا بجن کی بڑی پرانی فلم یاد آگئ۔ " پرورش"   اس کو بھی نیند کا مسئلہ تھا۔ بچوں نے کہا کہ اس عمر میں توایسا ہو تا ہے۔ وہ بچارا خاموش ہو کر بیٹھ گیا۔ ہم بھی خاموش ہو جاتے ہیں۔ کسی سے کیا گلہ کرنا۔

اب بھلا کوئی پوچھے کہ یہ ہماری عمر ہے فلمیں یاد کرنے کی ۔ پر یادوں پر بھلا کون پہرہ  بٹھا سکتا ہے ۔ یہ ذہن بھی عجیب چیز ہے۔ کہیں بھی نکل پڑتا ہے اور ہم تو ہیں ہی اس کے غلام۔ اس کی انگلی پکڑ کر نکل کھڑے ہوتے ہیں پرانی راہوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور نئے دکھ سمیٹ کر واپس آجائے ہیں۔

 ہزار بار عہد کیا کہ اب کبھی اس کے کہے میں نہیں آ نے کے پر یہ کمبخت ایسے سنہرے سپنے دکھا تا ہے ہم سب بھول بھال اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔

کتابوں میں لکھا سارا سبق یاد ہے۔ پتہ ہے کہ پیچھے مڑ کر دیکھیں تو پتھر کے بن جائیں گے۔ اور یہ کہ ماضی ہمیشہ سنہرا ہی لگتا ہے۔ دور کے ڈھول سہانے وغیرہ وغیرہ۔ سب پتہ سب کچھ یاد ہے۔ اور یہ کہ آج میں خوش رہو۔ 

جو گزر گیا اسے بھول جا۔ پر دل کچھ سنے تب نا۔ لگتا ہے دماغ میں ویڈیو کیمرے نصب ہیں۔ ایسے ایسے منظر دکھاتا ہے کہ جی کرتا ہے کہ پر لگیں اور ماضی میں جا پہنچیں۔ 

پھر وہی راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں

وہ کاغذ کی ناو وہ ندی کا پانی
میرے بچپن کے دن کتنے پیارے تھے دن

 بندہ کسی جال میں خوش نہیں۔ بچپن میں پابندیوں سے تنگ تھے۔ یہاں نہ جاؤ یہ نہ کرو۔ وہ نہ کرو۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ پھر کریں تو کیا کریں۔ بڑے ہونے کے خواب دیکھتے تھے۔ اور اب یہ کلمہ پڑھ رہے ہیں کہ

 
کیا سہانے تھے دن۔ دل یہی رٹ لگائے جا رہا ہے 

مجھ کو لوٹا دے کوئی عہد گزشتہ کی کتاب 

اس میں ماضی تھا مرا اور مرا عہدِ شباب 

اس میں تو میری بہت قیمتی تصویریں تھیں 


ہم بھی کہاں سے کہاں نکل گئے۔ ہاں تو شازیہ کی کال تھی۔ بڑی خوش تھی بتا رہی تھی کہ اس کی بیٹی کی شادی ہے دسمبر کی پچیس تاریخ کو۔ چلو خدا کا شکر ہے اس کی بیٹی کو کوئی "کلک"کر گیا۔

اس " کلک" نے تو جان عذاب میں کی ہوئی ہے۔ مائیں جانماز بچھائے بیٹھی ہیں کہ خدا کرے ہمارے بیٹی بیٹے کو کوئی کلک کر جائے۔ 

ایک دوسرے سے رابطہ کر کے رشتے ڈھونڈ نے میں سرگرداں اپنے حساب سے ایک سے ایک نادررشتہ ڈھونڈ کر لاتی ہیں۔ ملنے کے لیے خوشامد کرتی ہیں کہ مل تو لو شاید کلک کر جانے۔ پر بچوں نے تو شاید قسم کھائی ہوئی ہے۔ 

جواب یہی ملتا ہے۔ کلک نہیں ہوا۔ ماں باپ آن کے سامنے سر جھکانے چور بن کر ایک طرف چل دیتے ہیں۔

 کافی دنوں کے لیے بریک لگ جاتا ہے۔ رشتہ ڈھونڈ نے کا عمل کچھ دنوں کے لیے ملتوی کر نا پڑتا ہے۔ پچےالگ منہ بنائے گھوم رہے ہیں کہ ہمارا وقت ضائع کیا۔

ہمیں اپنا زمانہ یاد آگیا۔ امی نے ہماری بہنوں کے ذریعے ہمارے شوہر نامدار کی تصویر دیکھنے کو دی تھی۔ ہم اس  کو ہی بڑی نعمت سمجھ رہے تھے۔ کلک کا نہ کسی نے پوچھا نہ خیال آیا۔

اب تو یہ کمبخت کلک جان کو آگیا ہے۔ بچے تو گھوم پھر رہے ہیں اسکول کالج کب کا ختم کر کے اونچی اونچی جگہیں آفس میں سنبھال چکے ہیں۔ اپنے مگن دوستوں کے ساتھ سیرو تفریح میں مصروف بیگ سنبھالے دنیا کے سفرکو نکل گئے ہیں۔۔ مائیں دم بخود کلک کے لئے وظیفہ کرنے کے لیے دعاؤں میں مصروف ہیں۔

یہ کلک تو" کوڈ "سے بھی زیادہ بڑی بیماری نکلی بڑی جان لیوا ۔ خاص طور سے ماؤں کے لئے۔ خدا ماں باپ کو اس کلک کی آزمائش سے نجات دے۔ آمین۔ 

ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ خدا غارت کرے اس کلک کو۔ کہاں سے لائیں نئے رشتے جو لائے تھے سب نا پاس ہو چکے۔

ہمارا زمانہ تو ہے نہیں کہ چچا ماموں خالہ کے بچوں سے بھی شادی کا سلسلہ چلا یا جا سکے۔ ان کا تو نام لینا بھی گناہ کبیرہ ہے۔ شجر ممنوعہ 

بچے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم تو ان کو بھائی بہن سمجھتے ہیں۔ ان سے کون کہے کہ تم تو اپنے بہن بھائی کو بھی کب کچھ سمجھتے ہو۔ سارا دن کمروں میں بند کمپیوٹر سے باتیں کرنے سے فرست ہو تو  کسی کو کچھ سمجھو سمجھاو۔

 اہمارا زمانہ تو ہے نہیں کہ ہم ماون کی آنکھیں دیکھتے تھے کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ زمانہ بدل چکا ہے۔

 ماں باپ بچوں کی نظریں دیکھتے ہیں۔۔ کہ کہیں کوئی بات بری نہ لگ جائے۔ کم از کم گھر میں تو ہیں نظروں کے سامنے۔ یہی بہت ہے۔ شادی بھی ہو جائے گی کبھی تو کوئی کلک کرے گا۔ پیچھے پڑنے سے فائدہ۔ ناراض ہو جاتے ہیں بلاوجہ۔ بس اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں وہی کوئی سبیل نکالے گا انشاءاللہ۔

ہم نے خوامخاہ کا روگ پال لیا ہے کہ عمر نکلی جا رہی ہے۔ اللہ نے سب کا جوڑ بنایا ہے۔ وہ ایک دن ایسا رشتہ بھیجے گا جو فورا کلک ہو جائے گا انشاءاللہ۔ 

Comments

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے