Posts

کہی انکہی

Image
جنوری گزر ا فروری بھی چند ہفتوں کا مہمان ہے ۔ نیا سال کہاں کا نیا ۔ کب کے پرانا ہو چکا ۔ اب وہ آ ب و تاب کہاں جو نئے سال کے سورج طلوع پوتے وقت تھی ۔ وہ دھوم دھڑکا کب کے مدھم پڑ چکا ۔ اب تو دن رات کا وہی پرانا روٹین ہے جو ہر سال رہتا ہے یعنی  صبح ہوتی ہے شام ہو تی ہے زندگی یونہی تمام ہوتی ہے  شعر آ گے پیچھے ہو گیا ہو تو ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ اب ذہن کچھ کند سا ہو کر رہ گیا ہے ۔ باتیں گڈ مڈ سی ہو جاتی ہیں ۔ الفاظ یاد آ تے ہیں پر وقت پر نہیں ۔ حافظہ میں وہ بر جستگی نہیں رہی ۔  اگر کچھ یاد ہے تو گزر ا ہوا زمانہ ۔ سب فر فر یاد ہے ۔  تمہیں یاد ہو نہ یاد ہو ہمیں یاد ہے سب ذرا ذرا  کبھی کبھی تو ہم عاجز ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ جی کرتا ہے کہ ذہن پر پہرا بٹھا دیں ۔ دل پکار پکار کر کہتا ہے  یاد ماضی عذاب ہے یارب  چھین لے مجھ سے حافظہ میرا  پر دل و دماغ کی لڑائی تو بڑی پرانی ہے ۔ نہ ہمارا دل پر قابو ہے نہ ہی ذہن کچھ سمجھتا ہے ۔ ہم نے بھی اسی میں بہتری جا نی کہ دونوں کو اپنی اپنی راہ چلنے دیں ان کے حال پر چھوڑ دیں ۔  بیگانی شادی میں بلا وجہ عبداللہ دیوانہ...

جا کر کہیں کھو جاؤں میں

Image
جنوری کا مہینہ ختم ہو گیا ۔ ہر طرف برف ہی برف ہے ۔ برف کے طو فانوں نے تو جا نو راستہ ہی دیکھ لیا  ہمارے شہر ٹورنٹو کا ۔ تو چل میں آ یا۔ ابھی ایک برفباری کا طوفان سر سے گزر ا نہیں کہ دوسرا آ موجود ۔ کریں تو کیا کریں ۔  ٹورنٹو شہر میں برفباری سے نمٹنے کے لئے کافی کچھ سہولتیں موجود ہیں پھر بھی ایک روز  اسکول اور لائبریری وغیرہ بند کرنے پڑے ۔    برف ٹیلوں کی شکل میں ہر طرف نظر آ رہی ہے ۔ ٹورنٹو شہر آ ٹوا کا منظر پیش کر رہا ہے ۔ جہاں مئ کے مہینہ میں بھی برف لیک کی سطح پر تیر تی نظر آ تی تھی جب ہم وہاں رہتے تھے یہی منظر دیکھنے کو ملتا تھا ۔  فروری کا مہینہ شروع ہو چکا ہے ۔ برفباری کے سلسلے تو سکون ہے ۔ سڑک کے کنارے برف فصیل کی صورت میں موجود ہے ۔ درجہ حرارت نقطئہ انجماد سے پچیس ڈگری نیچے جا چکا ہے ۔ شہر  پھر بھی رواں دواں ہے ۔ ہم شہری بھی عادی ہو چکے ہیں ۔ یہاں کی سردی سے نمٹنا سیکھ چکے ہیں ۔  میں اس وقت کافی ہاؤس میں ہوں ۔ کافی کا کپ سامنے رکھا ہوا ہے ۔ سردی جتنی بھی ہو اندر سکون ہی سکون ہوتا ہے ۔ بس راستے کے لئے پہن اوڑھ کر نکلنا پڑتا ہے ۔ تو کچھ تو ج...

پگڈنڈیاں

Image
      جنوری کا مہینہ ابھی شروع ہوا ہے ۔ شروع ہوئے بھی بس دو چار ہی روز گزر ے ہیں ۔ موسم سرد ہے صبح سویرے سے برفباری ہو رہی ہے دن بھر چلے گی محکمہ موسمیات نے پیشین گوئی کر دی ۔  گویا پتھر کی لکیر ہے ۔ یہاں کے لوگوں کو آ خر ہر بات کی پہلے سے ہی کیسے خبر ہو جاتی ہے ۔ ہم تو ایک چاند پر ہی الجھے رہتے ہیں کہ عید آ خر ہو گی تو کس دن ۔ ہر طرف چاندی سی بکھری ہوئی ہے ۔ درختوں میں روئی کے گالے کپاس کے پھولوں کی مانند فضا کو چار چاند لگا دیے ہیں ۔ سورج دھیما دھیما سہما سہما سا سرمئی آ سمان میں سے آ نکھیں ملتا ہوا دکھائی دے رہا ہے قدرت کے بھی کتنے رنگ کتنے روپ ہیں ۔ ہر روپ نرالا ۔  نیا سال بھی دبے پاؤں آ ہی پہنچا ۔ خیر دبے پاؤں تو نہیں خاصے دھوم دھڑکے سے آ یا ۔ یہاں لوگ بڑے زندہ دل ہیں ۔ تیار بیٹھے ہوتے ہیں خوشیاں منانے کے لئے ۔ بس بہانہ چاہیے ۔ کرسمس کے لئے ہفتوں پہلے سے تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں ۔  شاپنگ مال میں ڈیل لگی ہوئی ہے لوگ خریداری میں مصروف ۔ مال بھرے ہوئے ۔ پھر نیو ایئر تو کرسمس کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے ۔ وہاں سے فارغ نہیں ہوئے کہ نیا سال سر پر آ گیا ۔  بس ...

لمحہ لمحہ زندگی

Image
  دسمبر کا آ خری ہفتہ گزر رہا ہے بلکہ یوں کہیں کہ بس آ خری چند روز باقی رہ گئے ہیں ۔ کرسمس آ ئ اور آ کر گزر بھی گئی ۔ یہاں کرسمس کا بڑا شور ہوتا ہے ۔ بڑی گہما گہمی رہتی ہے ۔  کارڈ اور تحفے خریدے جا رہے ہوتے ہیں شاپنگ مال بھرے ہوتے ہیں ۔ پھر کرسمس کے اگلے روز باکسنگ ڈے کا شور ہوتا ہے ۔ وہ سب ختم ہو جائے تو نئے سال کے استقبال کے لئے لوگ تیاریاں شروع کر دیتے ہیں ۔ یہاں کے لوگ ہوتے زندہ دل ہیں ۔ یہ تو ماننا پڑے گا ۔ ہماری طرح خوامخواہ کے روگ نہیں پالتے ۔ پر دکھ درد تو زندگی کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں ۔ خدا جانے کیا کچھ اپنے دلوں میں چھپا رکھے ہو تے ہوں ۔ خیر جو بھی ہے ۔ یہ بھی بڑی بات ہے کہ خوش باش رہتے ہیں ۔  ہم تو کچھ نہ بھی ہو تو ڈھونڈ ڈھانڈ کے خوشی میں دکھوں کی ملاوٹ کئے بغیر نہیں رہتے ۔  ہم بھی کہاں کے کہانی قصے لے کر بیٹھ گئے ۔ آ ج شازیہ نے اپنے گھر بلایا ہے ۔ نوشین اور فرزانہ نے بھی آ نے کو کہا ہے ۔ پھر ریحانہ تو اس کے گھر سے دو قدم کے فاصلے پر ہے ۔ وہ تو ضرور پہنچے گی ۔  ہم لوگوں کا مسئلہ ہے ۔ کون پہنچ پاتا کون نہیں ۔ بچے مصروف ہو تے ہیں ۔ یہاں بسیں تو ہیں پر ہر ج...

بھیگی بھیگی سی فضا

Image
دسمبر کا مہینہ ختم ہو نے کو ہے ۔ نئے سال کے شروع ہونے میں کچھ ہی دن باقی ہیں ۔ اس کے بعد یہ سال بھی اور سالوں کی طرح ایک قصئہ پارینہ بن کر گزرجائے گا ۔  ابھی تو لوگ نئے سال کے استقبال کے سلسلہ میں مصروف ہیں ۔ کچھ چھٹیاں منانے باہر جانے کا پروگرام بنا رہے ہیں ۔ کچھ لوگوں کا گھر میں  رہ کر عزیز رشتے داروں کو بلا کر پارٹی کرنے کا ارادہ ہے ۔ اس سلسلے میں مصروف ہیں ۔ ایک گہما گہمی کا سا سماں ہے ہر طرف ۔ تحفہ تحائف خریدے جا رہے ہیں ۔  موسم بھی ٹہر سا گیا ہے ۔ برف باری تھم سی گئی ہے ۔ جو پچھلے دنوں پڑ چکی وہ اچھی خاصی تھی ۔ پھر بھی فٹ پاتھ اور سڑکیں صاف ہیں۔ یہ کیا کم ہے ۔ سڑک کے سائڈ میں اچھی خاصی برف موجود ہے وہ یقین دلا نے کے لئے کافی ہے کہ موسم سرما ابھی گیا نہیں ۔  کینیڈا میں سردیاں تو مارچ تک چلیں گی ۔ اس سے کیا گھبرا نا ۔  یہاں کون سے کام رکتے ہیں ۔ اب تو یہاں رہتے ہوئے ایک زمانہ گزر گیا ۔ یہاں کی سردی اور برف باری کے عادی سے ہو چلے ہیں ۔  اب تو پاکستان کی گرمی کا سن کر ہوش اڑ جاتے ہیں ۔  خیر ہم کون سا پاکستان جا رہے ہیں ۔ اماں کے بعد تو پاکستان بس ہما...

ہمیں ڈر ہے ہم کھو نہ جائیں کہیں

Image
دسمبر کا مہینہ کب کا شروع ہو چکا ۔ سال ختم ہو نے کو ہے ۔ اکتدوبر میں درختوں میں ہریالی کی جگہ رنگوں کی بہار تھی ۔ سبز پتوں کے درمیان سرخ نارنجی اور ذرد رنگوں کی آ میزش نے فضا کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیا تھا ۔    ہر موسم جدا ہے ۔ نئے رنگ نئ بہار لے کر آ تا ہے ۔ پر ہمارے مزاج ہی نہیں ملتے ۔ کبھی جو خدا کا شکر ادا کریں ۔ شکوے شکایتوں کی ایک لمبی فہرست ہر وقت تیار ہو تی ہے ۔ جو ملتا ہے وہ تو کبھی نظروں میں جچتا ہی نہیں ۔ خوامخواہ کی خواہشات پال رکھثے ہیں ۔ ان کے پیچھے ہی بھاگتے رہتے ہیں ۔  دسمبر کا مہینہ ہے پر طرف برف ہی برف چاندی کی مانند جھلمل کر رہی ہے ۔ سورج کی کرنیں اس پر پڑتی ہیں تو اس کی چمک میں چار چاند لگا دیتی ہیں ۔ قدرت کے بھی کیا کارخانے ہیں ۔  نیا سال شروع ہو نے میں چند ہی ہفتے رہ گئے ہیں ۔ سال ابھی تو شروع ہو ا تھا اور اب کیلنڈر کا صفحہ پلٹنے کا بھی وقت آ گیا ۔ وقت کا تو پتہ ہی نہیں چلتا ۔ دسمبر جنوری میں تو ادھر صبح ہوتی ہے اور زرا کی زرا میں دن ڈھلنا شروع ہو جاتا ہے۔ ابھی ظہر عصر ختم نہیں ہوئی کہ مغرب کا وقت آ گیا ۔  باقی کام دھندہ آ دمی کرے تو ک...

سفر ہے سہانا

Image
    نومبر کا چل چلاؤ ہے ۔ دسمبر دروازے پہ کھڑا دستک دے رہا ہے ۔ موسم میں گرمی ختم اور خنکی اپنے عروج پر ہے ۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ آ خر کو یہ کینیڈا ہے پاکستان نہیں ۔ وہاں تو کل ہی بہن سے بات ہوئی کہ رہی تھی آ پا گرمی ختم ہو نے کا نام ہی نہیں لے رہی ۔ رات نسبتاَ بہتر ہو جاتی ہے پر دن گزار نا مشکل ہو تا ہے ۔  ہم انسان ہیں ہی سدا کے ناشکرے ۔ وہاں پاکستان میں گرمی سے نالاں تھے یہاں سردی کی ہائے ہائے کرتے دسمبر جنوری گزر تی ہے ویسے تو فروری بھی کچھ کم نہیں ۔ سرد ہوائیں تو مارچ کے شروع تک دم نہیں لینے دیتں   ہم جیسے لوگ جو وقت گزار ی کے لئے سڑکیں ناپنے نکل کھڑے ہوتے ہیں ۔ ہر روز جان ہتھیلی پر لے کر گھر سے نکلتے ہیں ۔ اس میں سے بھی بہت سے دنوں میں گھر بیٹھے کھڑکی سے ہی باہر کا نظارہ کر لیتے ہیں ۔  ہر طرف رف ہی برف ۔ سرد برفانی ہوائیں دیکھ کر دل تھا م کر رہ جاتے ہیں ۔  ہم کونسا سڑکیں ناپنے کے شوقین تھے۔  یہ تو یہاں کینیڈا میں وقت گزاری کے لئے گھر سے نکل کھڑے ہوتے ہیں ۔ گھر میں کتنا دل لگائیں ۔ نہ کوئی آ نے والا نہ جانے والا ۔ پاکستان تو ہے نہیں کہ جتنی بھی ...