Posts

Showing posts from September, 2025

چکن بریانی

Image
      ہم سکون سے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ کافی کام پڑا ہوا ہے پھر آ ج شازیہ نے بھی آ نے کو کہا ہے ۔ اس کے آ نے کا پتہ ہی نہیں ہو تا ۔ کبھی جو صحیح وقت پر آ ئے ۔ سارے دن کا حساب کتاب رکھنا ہو تا ہے ۔ بس انتظار کر تے رہو ۔ دن کے کسی بھی حصے میں ٹپک پڑے گی ۔  اب انسان کیا بنائے کیا پکائے ۔ کھانے کا انتظام کریں تو کیسے ۔   وہ تو شکل دکھا کر چل دے گی۔  اگر کھانا نہ کھایا تو ا س کھانے کا کیا ہوگا ۔ جو ہم نے اس کے لئے بنایا ہوا ہے۔ بچوں نے تو جانو قسم کھا رکھی ہے کہ سالن روٹی دال ترکاری کو ہاتھ نہیں لگائیں گے ۔ لے دے کے بس ایک چکن ہی رہ جاتی ہے۔ وہی اوڑھنا ہے وہی بچھونا ۔    پھر اس کے بعد چاول۔ پسٹا ۔ نوڈلس قسم کی چیزوں پر استخارہ آ تا ہے۔ روٹی تو جانو ممنوعہ ہے ۔ شاید حضرت آ دم یاد آ جاتے ہوں اسی لئے ہاتھ نہیں لگا تے ۔ ایک ہم ہیں کہ ہمارا روٹی کے بغیر گزارہ نہیں ۔   ہاں تو ہم کہ رہے تھے کہ آ ج شازیہ کے آ نے کا ہے ۔  اس کا کچھ پتہ نہیں کہ انیلہ کو بھی ساتھ لے آ ئے۔ وہ ایسی ہی ہے من موجی ۔ ہماری طرح نہیں کہ ہر چیز پر بڑی سوچ بچار کر یں پھر قدم اٹھائیں ا...

ہم نہ بھولیں گے کبھی

Image
    ستمبر کا مہینہ ختم ہو نے کو ہے ۔ اکتوبر کے مہینے میں کچھ ہی دن باقی رہتے ہیں ۔ موسم ابھی تک خوشگوار ہے۔ ہمیں وہ زمانہ اچھی طرح سے یاد ہے جب ستمبر میں سرد ہوائیں اپنے عروج پر ہوتی تھیں ۔ خدا بھلا کرے اس گلوبل وارمنگ کا اس نے تو سارے کا سارا نظام ہی الٹ پلٹ کر کے رکھ دیا ہے۔  آ ج صبح سے بلکہ رات گئے سےبارش ہو رہی ہے ۔ پر یہاں کی بارش نے کسی کا کیا بگاڑنا ہے ۔ سارے کام اسی طرح چلتے رہتے ہیں ۔ زندگی اسی طور پر رواں دواں رہتی ہے ۔ یہ اپنا کراچی تھوڑا ہی ہے کہ ادھر بارش کی بوند ٹپکی اور سڑک میں ایک اور گڑھے کا اِضافہ ہو گیا ۔  میرا تو خیر کب سے پاکستان جانے کا اتفاق نہیں ہو ا ۔ اماں نے دنیا سے منہ کیا موڑا ۔ کراچی ہمارے لئے علاقہ غیر ہو کر رہ گیا ۔  نئے کپڑے بدل کر جا ئوں کہاں  اور بال بنائوں کس کے لئے وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا  اب کراچی جائوں تو کس کے لئے   اماں ہی نہیں رہیں کہ ان کی زیارت کے لئے وطن جانے کا رخت سفر باندھیں  پر ابھی پچھلے ہفتے شاہینہ سے ملاقات ہوئی تھی  اس کے اماں باوا اللہ رکھے حیات ہیں ۔ اس کا کراچی کا ہر سال ہی چک...

کچھ ادھر ادھر کی

Image
ہمیں تو پہلے ہی پتہ تھا کہ شاہینہ کے آ گے بھلا ہم کہاں کچھ بولنے والے ۔ ہمیں معلوم تھا کہ وہ بچ نکلے گی اور ہم پھنس جائیں گے یہی ہوا ۔ اس کو دیکھتے ہی ہمارا ماتھا کھٹک گیا تھا کہ یہ  ا ب عنبر کا قصہ چھیڑ ے گی ۔ اسی وقت بات بدل دیتے ۔ کہ چلو کچھ اور بات کرتے ہیں ۔  پر ہم ہیں ہی سدا کے بیوقوف ہمیشہ لوگوں کی باتوں میں آ جاتے ہیں ۔ اور دوسروں کے سامنے تو ہماری بولتی ہی بند ہوجاتی ہے ۔ اماں سچ کہتی تھیں ۔ کبھی اپنی عقل بھی لڑا لیا کرو ۔  عنبر کی بات اس نے شروع کی ہم نے تو صرف گردن ہلا دی ۔ اب یہ نمک مرچ لگا کر اسے بتائے گی۔  عنبر نے گھر پر ون ڈش پارٹی رکھی تھی اس کو نہیں بلایا ۔ شاہینہ کو کہکشاں سے پتہ چلا ۔ اس کو یہ بات بہت بری لگی ۔اب  وہ اس بات کو لے کر کافی ناراض ہو رہی تھی ۔ ہم بھی حیران تھے کہ اسے کیوں نہیں بلایا ۔ دونوں کی کافی دوستی تھی ۔    اماں کہا کر تی تھیں کہ دوسروں کی باتوں میں دخل مت دیا کرو۔ ۔سارے جہاں کا درد کیوں پال لیتی ہو اپنے کام سے کام رکھا کرو۔  خیر اماں تو بہت کچھ کہتی تھیں ۔ ہم نے کبھی کب ا ماں کی باتوں پر دھیان دیا ۔ ہم تو بقو...

مکھڑے پہ سہرا ڈالے

Image
    ہم بھی جب کچھ کرنے کو نہیں ہو تا تو جھٹ کمپیوٹر کھول کر   بیٹھ جاتے ہیں اور پھر یو ٹیوب ژندہ باد ۔ کچھ نہ کچھ دیکھنے سننے کو مل ہی جاتا ہے ۔ اب اس وقت خدا جانے کیسے یہ بھولا بسرا گیت ہاتھ لگ گیا ۔ یقین جانیں اس میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ۔ ہم تو بس انگلیاں گھمارہے ہوتے ہیں اور کوئی نہ کوئی پرانا گیت ٹکرا جاتا ہے پھر کون کمبخت ہوگا جس کا سننے کو جی نہ کرے   تو جناب اس وقت ہاتھ لگ گیا یہ گیت اور ہم  ماضی کے جھروکوں میں جھانکنا شروع ہو گئے ۔  ایک تو یہ ماضی نظروں سے اوجھل ہوتا ہی کب ہے۔  ذرا دیر کو نظروں سے اوجھل ہو بھی جائے تو کہیں آ س پاس ہی دبک کے بیٹھا ہوتا ہے اور ہم کچھہ دیر کو سکون کی سانس لے لیتے ہیں کہ چلو جان چھوٹی پر ماضی سے کس کی جان چھوٹی ہے یہ کب جان چھوڑ نے والا ہے ۔ وہ تو زندگی کے ساتھ ساتھ رہتا ہے قدم سے قدم ملا کر ۔  ذرا نظر چوکی اور سامنے آ کھڑا ہو آ  ۔ حلق کا داروغہ بن کر ۔ حلق کا داروغہ ہی کہنے کو جی کرتا ہے اسے ۔ جب سامنے آ کھڑا ہوتا ہے تو اپنا آ پ بھی بھول بھال جاتے ہیں اور لگتے ہیں ماضی کی راکھ کریدن...

پل بھر کی کہانی

Image
  موسم بدل رہا ہے ۔ ہوا میں خنکی آ چلی ہے ۔ موسم گرما کا چل چلاؤ ہے ۔ ستمبر کا مہینہ شروع ہو چکا ہے ۔ آ خر گرمی بھی کب تک رہتی ۔ یہ کینیڈا ہے دوستو ۔ گرمیوں کے جتنے بھی دن مل جائیں غنیمت جانو۔ آ ج ستمبر کی پانچ تاریخ ہے ۔ اس وقت صبح کے نو بج رہے ہیں ۔  درجہ حرارت تیرہ ڈگری سنٹی گریڈ ہے۔ کچھ دیر بعد موسم تھوڑا گرم ہو جائے گا پر ہوا زور پکڑ لے گی ۔ ہوا کے جھکڑ نوے کلومیٹر فی گھنٹہ دکھا رہا ہے محکمہ موسمیات ۔ ہوا کے جھکڑ سے ہم ڈر جاتے ہیں ۔ ہم ہیں واک کرنے کے شوقین ۔ شوقین بھی بس کیا ۔ وقت گزاری کے لئے کچھ تو کرنا پڑتا ہے ۔ ہم تیار ہو کر سڑک ناپنے نکل پڑتے ہیں اور جا کر اکیلے بیٹھ کر ایک پیالی چائے یا کافی پی کر آ جاتے ہیں ۔ بڑے آ رام سے گھنٹے رو گھنٹے گزر جاتے ہیں ۔  موسم کا لطف بھی مل جا تا ہے اور ٹم ہارٹن کافی ہاؤس کی رونق بھی دیکھنے کو مل جاتی ہے ۔ اب سارا دن ٹی وی یا کمپیوٹر کے آ گے بیٹھنے سے تو بہتر ہے کہ باہر کی فضا سے لطف اندوز ہو ا جائے۔  ہاں اس کے لئے تھوڑی بہت ہمت کرنی پڑتی ہے ۔ تھوڑی بہت نہیں کافی زیادہ ۔ بھلا کس کا دل کرے گا کہ تیار ہو کر اکیلے سڑکوں پر گھ...