Posts

Showing posts from June, 2025

نیل گگن کے تلے

Image
    نہ یہ کینیڈا ہے نہ ٹورنٹو اور نہ ہی ٹم ہارٹن کا کافی ہاؤس۔ یہ ہے لندن انگلینڈ ۔ نیا شہر نیا ملک نیا کا فی ہاؤس ۔ پر ہم ہیں وہی پرانے والے ۔ میرے خیال سے ہمارے نئے پرانے ہو نے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ دن تو نیا ہے ۔ صبح نئی اور چمکیلی ہے  اور دل میں نیا دن انجوائے کر نے کی لگن ۔ زندگی ہنس کر گزار نے کے لئے یہی بہت ہے    ہم کینیڈا سے سمندر پار کر کے نارتھ امریکہ چھوڑ کر براعظم یورپ میں داخل ہو چکے ہیں اس وقت انگلینڈ کے دارلخلافہ لندن کے ایک کافی ہاؤس میں بیٹھے کافی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں  پلیز یہ مت کہئے گا کہ اس عمر میں کیا کیا شوق پال رکھتے ہیں ۔ بوڑھی گھوڑی اور لا ل لگام ۔ بھئ ہم تو زندگی ہنس کھیل کر گزار نے پر یقین رکھتے ہیں اب آ پ جو بھی کہیں ۔  ہاں تو ہم کہ رہے تھے کہ ہم کافی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔ کافی بھی کیا ہے بس کافی کے نام پر دھبہ ۔ ہم کافی کے بلکل بھی شوقین نہیں یہ تو بس وقت گزاری کے لئے ایک بہانہ ہے ۔ ذرا سی کافی میں۔ بہت سارا گرم پانی اور کریم ملا کر سامنے رکھ کر ذرا ذرا سی چسکیاں لیتے رہتے ہیں گھنٹے دو گھنٹے بڑے آ رام سے گزر جاتے ہ...

موسم ہے سہانا

Image
    موسم بڑا زبردست ہے۔ رم جھم پھوار پڑ رہی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں پھوار اور اوپر سے ٹھنڈی ہوا مزہ ہی آ گیا ۔ ابھی ہم اپنے گھر کے بیک گارڈن میں ہی اس کا لطف اٹھا رہے تھے کہ بے اختیار دل میں خواہش جاگی کہ کیوں نہ باہر واک پر جایا جائے ۔ یہ دل بھی عجیب شے ہے ۔ اس کے ہاتھوں لوگوں کو اکثر رلتے دیکھا ہے ۔  ہم تو خیر ایک طرح سے چار دیواری میں ہی مقید تھے۔ مقید ذرا سخت لفظ ہے ۔ امی سن رہی ہوں گی تو کیا سوچیں گی۔ سوری اماں۔ چلیں ایک سورہ فاتحہ پڑھ لیتے ہیں آ پ کے لئے ۔ ابا میاں بھی تو اس کار خیر میں شامل تھے ۔ دونوں کی ہی ملی بھگت ہو تی تھی ۔  ویسے تو دونوں ہر معاملے میں بلکل جدا تھے یوں جانو ایک مشرق تو دوسرا مغرب ایک شمال تو دوسرا جنوب پر جب ہماری باری آ تی تو دونوں ایک ہو جاتے۔ ذرا کسی دوست کی سالگرہ کا بلاوا آ تا ۔ بھئی دوست سے ہمارا مطلب ہے سہیلی ہمارے زمانے میں دوستی صرف اور صرف لڑکیوں سے ہی ہوتی تھی ۔ خیر آ ج کل تو اس کے بھی ہزار معنے نکل آ تے ہیں اب ہم اس کی تشریح کر کے کسی خرافات میں نہیں پڑنا چاہتے۔ نا با با نہ ویسے ہی کچھ کم گناہ ہیں جو اب مزید اضافہ کریں ۔ بس اب ...

ہائے ہمارا سیل فون

Image
بقر عید آ ئ اور گزر بھی گئ۔ جیسے دبے پاؤں آ ئ ویسے ہی خاموشی سے گزر گئ ۔ نہ آ نے کا پتہ چلا نہ جانے کا ۔ یہ گوروں کا دیس ہے یہاں سڑکوں پر گائے بکرے ذبح کرنے کا بھول ہی جائیں ۔ سڑک پر ٹشو پیپر تک پھینکنے کی بھی خاصی بڑی سزا بھگتنی پڑتی ہے نہ کہ گائے بکری زبح کرنا اور پھر اس کے بعد ان کی باقیات جو ہم پاکستان میں بغیر کسی تردد کے سڑک پر چھوڑ گوشت اٹھا کر چلتے بنتے تھے ۔گوشت  گھر لا کر تھوڑا بہت عزیز رشتے داروں اور پڑوسیوں کو دے کر فرج اور فریزر میں بھر لیتے تھے ۔ اللہ اللہ خیر صلا ۔ پاکستان زندھ باد ۔  کھال کوئ سی انجمن جس کا اس زمانے میں پڑلہ بھاری ہوتا وہ لے جاتی ۔گائے ۔ بکرے کے با قی لوازمات سڑک پر ہفتوں پڑے رہتے سٹی کونسل کے رحم و کرم پر ۔ جب چھٹیاں ختم ہوں گی اور ان کی نظر کرم ہوگی پھر دیکھا جائے گا ۔ اس وقت تک وہ مکھیوں کی افزائش نسل کا کام انجام دیتی رہتیں ۔ کراچی شہر میں ویسے تو عام دنوں میں بھی مکھیوں کی خاصی بہتات ہے خدا جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر کو سلامت رکھے ۔  ہمارا شہر اور کچھ نہیں تو کم از کم مکھیوں میں تو خود کفیل ہے ۔ لیکن بقر عید کا زمانہ آف میرے خدا ۔ گھر سے با...

کلیننگ لیڈی

Image
    صبح کے ساڑھے نو بج رہے ہیں ۔ کچن پورا پھیلا ہوا ہے ۔ لگ رہا ہے کہ برات ابھی ابھی رخصت ہو کر گئئ ہے ۔ ناشتہ تو سب نے کیا پر دو لوگ لنچ بھی لے کر گئے ہیں ۔ ان کا آ فس ایسی جگہ ہو گا جہاں کھانے پینے کی مطلب کی دوکانیں نہیں ہوں گی ۔ ورنہ بچے تو لنچ لے جانا شان کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ بچے تو خیر کوئی نہیں رہے پر ہمارے لئے تو سب ہی بچے ہیں ۔ عمر کے اس حصے میں تو بڑے چھوٹے سب ہی بچے لگنے لگتیے ہیں اپنے سامنے ۔  سب جاب پر روانہ ہو چکے ہیں ۔ بچے بڑے سب ۔ اب ہم رہ گئے ہیں ۔ سب کی شام تک واپسی ہو گی ۔ ہم نے بھی جینا سیکھ لیا ہے ۔ اپنا وقت گزارنے کے لئے کافی مصروفیات ڈھونڈ رکھی ہیں ۔ اول تو کچن سمیٹتے سمیٹتے گھنٹہ بھر لگ جائے گا ۔ پھر کمپیوٹر ژندہ باد ۔ گوروں نے بھی کیا چیز نکالی ہے ۔ ہر بندہ خود کفیل ۔ اب تو اس کمبخت کے سامنے بندوں سے میل ملاپ کی عادت بھی ختم ہو تی جا رہی ہے ۔ بچوں نے تو اس کے آ گے دنیا ہی تگ کر رکھی ہے ۔ وہ ہیں اور کمپیوٹر ۔ اب تو کسی کو شادی بیاہ کا بھی کوئی شوق نہیں ۔ بلکہ شادی کے نام سے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں ۔ سب اپنی اپنی دنیا میں مست مگن ہیں ۔  تو ہم ک...