ہم خوبصورت تھے کبھی

آ ج کی صبح بڑی خوبصورت بڑی چمکدار ہے ۔ سورج کی کرنیں ہر سو روشنی بکھیر رہی ہیں ۔ فضا رنگین موسم حسین ۔ صبح اٹھے تو بستر سے اٹھنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ ورنہ تو بعض اوقات جسم کا کوئی نہ کوئی حصہ ایک نئ کہانی لے کر آ تا ہے ۔ ہر صبح نرالی ہو تی ہے ۔ پہلے سے پتہ ہی نہیں ہوتا کہ آ ج کیا سننے کو ملے گا ۔
صبح ہی صبح اٹھ تو گئے ہیں ۔ بڑا تیر مارا ہے اپنے حساب سے ۔ اب پورا دن پڑا ہے ۔ اس کا حساب کتاب کرنا ہے ۔ جاب سے تو کب کے ریٹائر ہو چکے ہیں ۔ اس کی تو کوئی ٹینشن نہیں۔ پورا دن مع چوبیس گھنٹوں کے ہمارے قبضے میں ہے ۔
ہمارے اوپر ہے ۔ جو چاہے کر یں جیسے چاہیے گزار یں ۔ ہنس کر گزار یں یا اسے رو کر گزاریں ۔
خیر روئیں ہمارے دشمن ۔ ابھی کچھ پلان کرتے ہیں ۔ صبح کے ساڑھے دس بج رہے ہیں ۔ ہم ناشتہ سے فارغ ہو چکے ہیں۔ چاہے تو روز ہی پیتے ہیں گھر میں بیٹھ کر ۔ آ ج کافی ہاؤس چلتے ہیں ۔ وہاں بیٹھ کر کافی پئیں گے ۔
کس کے ساتھ ۔ یہ کیا بات ہوئی ۔ ارے بھئی اکیلے ہی پئیں گے ۔ اور کس کے ساتھ ۔ اس عمر میں کون بیٹھا ہے ہمارے ساتھ کافی پینے کو ۔ میاں تو اللہ کو پیارے ہو گئے ۔ خیر جب تھے بھی تو برائے نام ہی ساتھ تھے ۔
شروع کے دنوں میں تو خیر سے اماں ابا کے لحاظ کے مارے دور ہی دور رہے ۔ پھر دن بھر وہ اپنی نوکری میں مصروف ہم اپنی جاب میں ۔ اور پھر ہم بچوں میں گھر کر مصروف ہو گئے ۔ بڑے دنوں بعد جب وہ ریٹائر ہو کر گھر بیٹھے ۔ اور بچے بھی اپنی اپنی طرف چل دئے ۔
ہم دونوں ہی رہ گئے ۔ پر میرے خیال سے پلوں کے نیچے سے کافی پانی گزر چکا تھا ۔ اتنا زمانہ گزر نے کے بعد ہم دونوں کی ہی عادتیں پختہ ہو چکی تھیں ۔ لچک کون دکھاتا ۔ کبھی کبھی تو یقین ہی نہیں آ تا تھا کہ وہ یہ ہی ہیں جن کے سپنے سجائے ہم کو انتظار کی گھڑیاں کاٹنی مشکل ہو جا تی تھیں ۔
سچ وقت بڑا ظالم ہے اور مہربان بھی ۔ خیر اب تو یہ سب کہانی قصہ ہے ۔ نہ میاں رہے نہ وصال صنم ۔
تو ہم کہ رہے تھے کہ آ ج کافی ہاؤس میں چل کر کافی پیتے ہیں کچھ نیا کرتے ہیں ۔ مزہ آ ئے گآ ۔ سچ اگر اپنے آ پ سے دل لگانا آ جائے تو زندگی بڑی آ سان ہو جاتی ہے ۔ ہم خود کفیل ہو جاتے ہیں ۔ ساری فکر وں سے آ زاد ۔
سچ کبھی کبھی ہم بھی بڑی عقلمندی کے فیصلے کرتے ہیں ۔ کافی ہاؤس ہمارے گھر سے بیس منٹ کے فاصلے پر ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ دس پندرہ منٹ ہو پر ہم تو اپنے قدموں کے حساب سے بتا رہے ہیں ۔ راستہ بڑا حسین ہے ۔ مئ کا مہینہ شروع ہو چکا ہے ۔ درختوں میں سبز کونپلیں پھو ٹ چکی ہیں ۔ رنگ برنگے خود رو پھول فضا کو مزید حسین بنا رہے ہیں ۔ بہت کچھ ہے دیکھنے کو لطف اندوز ہونے کو ۔
اس وقت ساڑھے گیارہ بج رہے ہیں ۔ ہم کافی ہاؤس پہنچ چکے ہیں۔ یہاں بڑی گہما گہمی ہے۔ قریب ہی سکینڈری اسکول ہے ۔ شاید لِنچ ٹائم ہے اسکول کے لڑکے لڑکیاں ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں۔ بڑی چہل پہل ہے ۔ ان کے روشن چہرے ۔ ان کے قہقہے فضا کو رنگین بنا رہے ہیں ۔ ہر طرف زندگی ہی زندگی ہے ۔
ہمیں اپنا زمانہ یاد آ گیا۔ ساتھ میں نیرہ نور کا حسین نغمہ بھی ۔
کبھی ہم خوبصورت تھے
کتابوں میں بسی خوشبو کی مانند
بہت سے ان کہے لفظوں سے تصویریں
بناتے تھے ۔ کبھی ہم خوبصورت تھے ۔
خیر خوبصورت تو ہم اب بھی ہیں ۔ خدا کی تخلیق کردہ ہر چیز خوبصورت ہے ۔ ہمارے سمیت
ہم بھی کس بحث میں پڑ گئے۔ چلیں کافی سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ کافی ہاؤس میں رونق ہی رونق ہے ۔
باہر کا ماحول خوشگوار ہو تو اندر کا ماحول بھی تبدیل ہو جاتا ہے ۔ یکسانیت طبیعت کو بوجھل کر دیتی ہے ۔ کبھی کبھی ہم بھی عقلمندی کا فیصلہ کر لیتے ہیں ۔ اچھا ہوا گھر سے نکل کر آ گئے ۔ سارا دن کمپیوٹر اور ٹی وی کے آ گے بیٹھے رہنا کہاں کی عقلمندی ہے ۔
To be honest Neshat Baji it's amazing zabardast MashaAllah Allah Mola give you long life with a good health
ReplyDeleteElahe Ameen