Posts

Showing posts from May, 2025

ساون کا مہینہ پون کرے شور

Image
یہاں کا موسم بھی یہاں کے لوگوں کی طرح بیباک ہے۔ جو بھی موسم ہو اپنی پوری آ ب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہو تا ہے ۔ سردی ہے تو ہر طرف برف ہی برف ۔ فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ برف کی منڈیر فصیل کی صورت میں ہفتوں بلکہ بعض علاقوں میں تو برف چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کی صورت میں مہینوں تک موجود رہتی ہے ۔ یخ بستہ ہوائیں شور مچا مچا کر اس بات کی گواہی دیتی رہتی ہیں کہ ابھی سردیاں نہ صرف موجود ہیں بلکہ پوری آ ب و تاب کے ساتھ براجمان ہیں ۔   ہمیں اپنا اٹوا کا زمانہ یاد ہے ۔ وہاں تو مئی کے مہینے میں بھی برف لیک کے پانی پر تیرتی نظر آ یا کرتی تھی ۔ اب تو ہم ٹورنٹو شفٹ ہو چکے ہیں ٹورنٹو آ ٹوا سے زیادہ دور تو نہیں روڈ سے چلیں تو صرف چار پانچ گھنٹے کا سفر ہے ۔ پر موسم کے لحاظ سے یہاں بڑا سکون ہے۔ سردی پڑتی تو ہے اور برف بھی خوب گرتی ہے پر آ ٹوا کا مقابلہ نہیں ۔  ہاں تو ہم کہ رہے تھے کہ یہاں ہر موسم بھرپور ہوتا ہے پوری جوبن کے ساتھ اپنا رنگ جماتا ہے ۔ بارشوں کے زمانے میں کئ کئ دن صبح سے جو بارش ہونا شروع ہو تی ہے تو سارا دن ختم ہو نے کا نام ہی نہیں لیتی ۔  گرمیوں کا موسم آ تا ہے تو سورج پوری آ ب و تاب کے...

لیڈییز کمپارٹمنٹ

Image
مئی کا آ خر آ خر ہے اور سردی ابھی تک نہیں گئ ۔ کینیڈا کی سردیاں لمبی ہوتی ہیں پر اس سال تو کچھ زیادہ ہی لمبی ہو گئیں ۔ ختم ہو نے کا نام ہی نہیں لے رہیں ۔ صبح سے بارش ہو رہی ہے اس کی وجہ سے موسم مزید ٹھنڈا ہو گیا ہے۔ دو روز پہلے ہلکی سی جیکٹ پہن کر واک کے لئے نکلے تھے ۔ آ ج تو لمبا والا کوٹ لینا پڑا اس کے نیچے سوئٹر اوپر سے اونی مفلر گلویز ۔ باہر نکلنے کا ارادہ کرو تو سب کچھ پہننے میں دس پندرہ منٹ لگ جاتے ہیں۔ پھر چائے پینے کافی ہاؤس جائیں تو سویٹر کوٹ وغیرہ اتارنے میں پانچ دس منٹ رکھ لو پھر کہیں جا کر کہانی شروع ہو تی ہے ۔  یہاں ہر جگہ ہیٹنگ ہوتی ہے یہ بھی ایک بڑی نعمت ہے ۔ جا کر ہلکے پھلکے ہو جاتے ہیں چائے کافی پینے سے پہلے ۔  کافی ہاؤس تک کا سفر بھی بہت حسین بڑا خوبصورت ۔ جگہ جگہ رنگ برنگے خود رو پھول اپنی بہار دکھلا رہے ہیں ۔ درختوں نے ابھی پوری طرح جان نہیں پکڑی ۔ ٹھنڈ کی وجہ سے سبزہ پوری طرح نظر نہیں آ رہا ۔ پھر بھی گھروں کے باہر گرائونڈ میں گھاس سر سبز و شاداب نظر آ رہی ہے ۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ سے یوں لگ رہا ہے جیسے کہ فضا میں جلترنگ بکھر گئ ہو ۔ قدرت بھی کیسے کیسے دلفریب م...

ہاشمی سرمہ تبت اسنو

Image
یہ دل بھی عجب شے ہے جانے کیا کیا خیالات ذہن میں جگا تا رہتا ہے ۔ ہم بھی نرے ڈھیٹ اس کے چنگل میں کب آ نے والے ۔ اس وقت تو آ گے آ یا نہیں جب ا نے کے دن تھے ۔ اب کیا فایدہ جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اب ہمارے دل لگانے کے دن گزر گئے ۔ ا ب اس کی یہ فرمائش کہ اگراب ہم کو دوبارہ زندگی گزارنے کا چانس ملے تو ہم کیا کریں گے۔ کیسے گزاریں گے ۔  ہم بھلا کیسے گزاریں گے ۔ ویسے ہی گزاریں گے جیسے کہ گزاری ہے۔ ہم میں اتنا دم خم ہے نہ اتنی صلاحیت کہ سپنے بننے بیٹھیں اور پھر ان کے پورا ہونے کے انتظار میں راتوں کی نیندیں حرام کرتے پھر یں۔ نہ با با نہ ۔ ہم نے سپنے دیکھنے والوں کا حشر دیکھا ہے ۔ ان لوگوں نے تو جب بھی  کلیاں مانگیں کانٹوں کا ہار ملا ۔  ہم ایسے ہی بھلے۔ اپنا ذہن ہٹانے کے لئے ہم نے سوچا کہ کمپیوٹر پر کوئی اچھی سی غزل سنتے ہیں ۔ پروین شاکر ہمیں پسند ہے۔ اسے لگاتے ہیں ۔ یہ کیا مہدی حسن غزل سنا رہے ہیں ۔ یہ تو صبح سے شام کر دیں گے ۔ پوری غزل سنانے میں ۔  چلیں پروین شاکر کی زبانی ہی ان کا کلام سنتے ہیں ۔ اشعار تو ہیں ہی خوبصورت پر خود بھی کم خوبصورت نہیں ۔ زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے...

ہم خوبصورت تھے کبھی

Image
    آ ج کی صبح بڑی خوبصورت بڑی چمکدار ہے ۔ سورج کی کرنیں ہر سو روشنی بکھیر رہی ہیں ۔ فضا رنگین موسم حسین ۔ صبح اٹھے تو بستر سے اٹھنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ ورنہ تو بعض اوقات جسم کا کوئی نہ کوئی حصہ ایک نئ کہانی لے کر آ تا ہے ۔ ہر صبح نرالی ہو تی ہے ۔ پہلے سے پتہ ہی نہیں ہوتا کہ آ ج کیا سننے کو ملے گا ۔  صبح ہی صبح اٹھ تو گئے ہیں ۔ بڑا تیر مارا ہے اپنے حساب سے ۔ اب پورا دن پڑا ہے ۔ اس کا حساب کتاب کرنا ہے ۔ جاب سے تو کب کے ریٹائر ہو چکے ہیں ۔ اس کی تو کوئی ٹینشن نہیں۔ پورا دن مع چوبیس گھنٹوں کے ہمارے قبضے میں ہے ۔  ہمارے اوپر ہے ۔ جو چاہے کر یں جیسے چاہیے گزار یں ۔ ہنس کر گزار یں یا اسے رو کر گزاریں ۔ خیر روئیں ہمارے دشمن ۔ ابھی کچھ پلان کرتے ہیں ۔ صبح کے ساڑھے دس بج رہے ہیں ۔ ہم ناشتہ سے فارغ ہو چکے ہیں۔ چاہے تو روز ہی پیتے ہیں گھر میں بیٹھ کر ۔ آ ج کافی ہاؤس چلتے ہیں ۔ وہاں بیٹھ کر کافی پئیں گے ۔  کس کے ساتھ ۔ یہ کیا بات ہوئی ۔ ارے بھئی اکیلے ہی پئیں گے ۔ اور کس کے ساتھ ۔ اس عمر میں کون بیٹھا ہے ہمارے ساتھ کافی پینے کو ۔ میاں تو اللہ کو پیارے ہو گئے ۔ خیر جب ت...

رم جھم رم جھم

Image
 صبح سے یہ وقت آ گیا کام ہے کہ سمٹنے میں ہی نہیں آ رہا ۔ ایک تو یہ شاہینہ وقت بے وقت ٹپک پڑتی ہے۔  بس پھر تو اللہ ہی حافظ ۔ اس کی باتیں ختم ہی ہونے میں نہیں آ تیں  ۔ بس ریل گاڑی ہے جو چلے جا رہی ہے اپنی مرضی کے اسٹیشن پر ہی جا کے رکے گی۔ آ پ کے بس میں کچھ نہیں۔ اس کے ساتھ سفر کرتے رہیں اور راستہ سے لطف اندوز ہوتے رہیں ۔ اسی میں خیریت ہے۔   خیر شاہینہ کے وقت بے وقت آ نے سے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ۔ شاہینہ اور ہمارا ساتھ بہت پرانا ہے۔ نصف صدی سے بھی زیادہ کا عرصہ ہم نے ساتھ گزارا ۔ زندگی کی نرم گرم اونچ نیچ سارے سفر میں ہم ساتھ ساتھ رہے۔  وہ میری کلاس میں تو نہیں تھی پر ہمارے گھر قریب قریب تھے ۔ گھر بھی کیا بس سر چھپانے کے لئے ابا میاں نے دو کمروں کا خستہ حال گھر خرید لیا تھا اپنی تھوڑی بہت پنشن سے ۔  ابا میاں مرحوم تھے بڑے دور اندیش۔ ہم  چار بہن ۔ دو بھائی ۔ اماں اور ابا میاں ۔ ہم سب اس میں مزیے سے رہنے لگے ۔  شاہینہ کا گھر قریب تھا تو  اسے کھلی چھٹی ملی ہوئی تھی ۔ جب جی کرتا آ دھمکتی۔ خیر اس کا گلہ کیا کریں ۔ ہمارا بھی یہی وطیرہ تھا ۔ ہم...