زندگی اک سفر ہے سہانا

May be art of coffee cup

ارے بھئی کوئی فون تو دیکھ لے کب سے گھنٹی بج رہی ہے ۔ لو بھلا گھر میں ہے ہی کون ہم بھی کس سے باتیں کر رہے ہیں۔ سب تو کالج یونیورسٹی سدھار لئے ۔ باقی رہے بیٹآ بہو تو وہ دونوں جاب پر ہیں ۔ اب تو بڑے دنوں بعد ہر روز آ فس جائے کا نیا قانون لاگو ہو گیا ہے ۔ 
کووڈ کے بعد سے سب کے مزے تھے۔ گھر کے ہی کسی کونے میں بیٹھ کر آ فس کا کام مزے سے ہو جاتا تھا ۔ رات کے کپڑوں میں ہی نئ شرٹ پہنی وہ بھی اگر زوم کی میٹنگ کرنی پڑ جائے ورنہ تو گھر کے کپڑوں میں ہی آفس کا کام نمٹ جاتا تھا ۔
اب یہ نیا قانون سب کو بڑا کھل رہا ہے ۔
صبح صبح تیار ہو کر گھر سے نکلنا پڑ رہا ہے ۔
  شکر ہے اب موسم بہتر ہو گیا ورنہ تو پہلے ڈرائیو وے صاف کرو پھر گاڑی سے برف ہٹائو پھر کہیں جا کر سفر شروع ہو تا تھا گھر سے آ فس تک کا ۔ واپسی کے وقت پھر یہی کہانی ۔ کینیڈا کی سردی میں باہر کھڑے ہو کر برف صاف کرنی بژا جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے ۔ خیر اب تو برف کا زمانہ چلا گیا ۔ پھر بھی تیار ہو کر گھر سے نکلنا پڑ تا ہے آفس جانے کے لئے ۔

ہاں تو ہم کہ رہے تھے کہ گھر میں تو کوئی ہے نہیں سب گئے ہوئے ہیں ۔ ہم کو خود ہی فون سننے کے لئے نیچے جا نا ہو گا۔ ایک تو شاہینہ کی بھی سمجھ نہیں آتی۔ سب سیل فون پر آ گئے ہیں اور وہ ہے کہ لینڈ لائن کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی۔ ہم اچھا خاصا کمپیوٹر پر اپنا پروگرام دیکھ رہے تھے ۔ اب نیچے جائیں اس کا فون سننے جب تک جائیں گے فون بند ہو چکا ہو گا اور ہم نمبر ملائیں گے تو وہ کہیں گے لئے نکل چکی ہوں گی ۔ ذرا بھی تو صبر نہیں کہ انسان تھوڑا انتظار ہی کر لے  
ہم بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے ۔ وہ تو سدا کی ایسی ہی ہے ۔ چھلاوا ۔ اس نے کب کسی کا انتظار کیا ۔ یہ تو لوگ ہی ہیں جو اس کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں ۔ وہ ہے ہی ایسی۔ اس نے زندگی کو کبھی سیریس لیا ہی نہیں ۔ ایک ہم ہیں ہر کسی کی بات سینے سے لگا کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ دل پر لے لیتے ہیں اور پھر گئے کام سے ۔ گھنٹے بھر کی چھٹی ۔ 
ایک شاہینہ ہے اس پر کسی بات کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا ۔ سدا ہنستی مسکراتی اپنے آپ میں مگن ۔ ہم یہ گر نہ سیکھ سکے ۔ ساری زندگی ابا میاں اور اماں سے ڈر ڈر کر گزر گئ۔ اور اب بچوں کے بچوں تک سے سہمے رہتے ہیں کہ کچھ غلط نہ ہو جائے اور پھر دنیا والے تو تاک میں ہی رہتے ہیں وہ کب کسی کو چین سے جینے دیتے ہیں ۔ ہمارا کچھ نہیں ہو سکتا ۔ 

ایک شاہینہ ہے ۔ میاں کا کب کے انتقال ہو چکا ۔ بچے اپنی اپنی طرف جاب کے سلسلے میں دوسرے شہروں میں ۔ اکیلی رہتی ہے ۔ اپنے کو مصروف رکھنے کے لئے ہزار کام نکالے ہوئے ہیں ۔ چھوٹا سا اپارٹمنٹ ہے۔ گملوں میں رنگ برنگے پھول لگے ہوئے ہیں ان کی کاٹ چھانٹ میں لگی رہتی ہے ۔ پھر کچن میں جب بھی جاؤ یوں لگتا ہے کہ بھرے پرے گھر کا کھانا پک رہا ہے ۔ کئی طرح کی ہانڈیاں چولھے پر چڑھی ہوئی ہیں ۔ جو کوئی جس وقت بھی جائے کھانا کھانے بغیر نہیں جانے دیتی ۔ بلکہ ساتھ بھی باندھ دیتی ہے ۔ کہتی ہے مجھے کھانا پکانے میں مزہ آتا ہے۔  
اس کو تو ہر چیز میں مزہ آتا ہے ۔ لوگوں سے ملنے میں بھی ۔ خالی بیٹھنا تو آ تا ہی نہیں ۔ اس کی شخصیت میں ایک طرح کی مقناطیسیت ہے ۔ لوگ بھی تو اس کو نہیں چھوڑتے ۔ پر وہ تو خود ہی اپنی ذات میں انجمن ہے۔ اس کو جینے کا ڈھنگ آ تا ہے ۔ ہماری طرح نہیں ۔ بلکہ ہنس کھیل کر ۔ 
عمر میں ہمارے لگ بھگ آ س پاس ہی ہوگی ۔ ژندہ دل خوش باش ۔ کہتی ہے بس آ ج ہنس کھیل کر گزار نے کی کرو ۔ کل کی کل دیکھی جا ئے گی۔ کس قدر سادہ فلسفہ ہے زندگی گزارنے کا۔ 
زندگی اک سفر ہے سہانا 
کل کیا ہو کس نے جانا 


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے