رنگوں کی برسات
انگلینڈ جانے کا پروگرام بنا رہی ہوں ۔ اب پاکستان تو ایک طرح سے پردیس بن کر رہ گیا ہے۔ ہم نے اب نگلینڈ کا سہارا لے لیا۔ اسی کو اپنا دیس بنا لیا ۔ بچے چاروں طرف بکھر گئے اور ہم ان کے چکر میں مسافر بن کر ملک ملک کی خاک چھان رہے ہیں، تین بیٹیاں انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔ بچوں کو فرصت کہاں اپنے اپنے جھمیلوں میں الجھے ہوئے ہیں ۔ نوکریاں گھر داری پھر اپنے اپنے بچوں کے مسئلے مسائل ۔ اماں کہتی تھیں پیدا کرنے سے پالنا زیادہ مشکل ہے ۔ ان کی زندگی میں تو سمجھ نہیں پائے۔ خیر ان کا کون سا کہا ان کی زندگی میں سمجھنے کی کوشش کی ۔ جہاں انہوں نے کچھ کہنے کو منہ کھولا اور ہم گھبرا کر سوچنے بیٹھ جاتے کہ لو اب ایک اور نصیحت سننے کو تیار ہو جاؤ۔ جیسے تیسے سن کر جان چھڑا تے ۔ آدھی کان میں پڑتی آدھی اوپر سے گزر جاتی ۔ جو کان میں پڑتی وہ بھی بس برائے نام ۔ ایک طرح سے اوپر سے ہی گزر تی تھی ۔ امی بھی تھیں استاد ۔ دنیا دیکھی ہوئی تھی ۔ جانتی تھیں کہ سب کچھ انرر اتر رہا ہے ۔ایک روز یاد ا ئے گا ۔...