Posts

Showing posts from January, 2025

رنگوں کی برسات

Image
      انگلینڈ جانے کا پروگرام بنا رہی ہوں ۔ اب پاکستان تو ایک طرح سے پردیس بن کر رہ گیا ہے۔  ہم نے اب  نگلینڈ کا سہارا لے لیا۔  اسی کو اپنا دیس بنا لیا ۔ بچے چاروں طرف بکھر گئے اور ہم ان کے چکر میں مسافر بن کر ملک ملک کی خاک چھان رہے ہیں،  تین بیٹیاں انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔ بچوں کو فرصت کہاں اپنے اپنے جھمیلوں میں الجھے ہوئے ہیں ۔ نوکریاں گھر داری پھر اپنے اپنے بچوں کے  مسئلے مسائل ۔  اماں کہتی تھیں پیدا کرنے سے پالنا زیادہ مشکل ہے ۔ ان کی زندگی میں تو سمجھ نہیں پائے۔ خیر ان کا کون سا کہا ان کی زندگی میں سمجھنے کی کوشش کی ۔ جہاں انہوں نے کچھ کہنے کو منہ کھولا اور ہم  گھبرا کر سوچنے بیٹھ جاتے کہ لو اب ایک اور نصیحت سننے کو تیار ہو جاؤ۔ جیسے تیسے سن کر جان چھڑا تے ۔ آدھی کان میں پڑتی آدھی اوپر سے گزر جاتی  ۔ جو کان میں پڑتی وہ بھی بس برائے نام  ۔ ایک طرح سے اوپر سے ہی گزر تی تھی  ۔ امی بھی تھیں استاد ۔ دنیا دیکھی ہوئی تھی  ۔ جانتی تھیں کہ  سب کچھ انرر اتر رہا  ہے  ۔ایک روز یاد ا ئے گا  ۔...

یادوں کی پرچھائیاں

Image
    آج بیٹھے بٹھائے ہمیں سوجھی کہ اپنی میز کی دراز صحیح کریں کافی دنوں سے چیک نہیں کی آج وقت ہے۔ کہیں جانا بھی نہیں۔ جانے کا تو ارادہ تھا پر درجہ حرارت منفی بائیس سنٹی گریڈ ہے اور ہوا کے جھکڑ بھی چل رہے ہیں برف میں کہیں گر گرا گئے تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ اس لئے وقت گزاری کے لئے اپنی میز کی دراز کھول کر بیٹھ گئے۔  کہتے ہیں کہ گیدڑ کی شامت آتی ہے تو شہر کا رخ کرتا ہے۔ ہمارا بھی وہی حال ہوا۔  پتہ نہیں ہم نے گیدڑ والا محاورہ بھی صحیح استعمال کیا یا نہیں۔ ہم جس دیس کے باسی ہیں وہاں گنگا تو نہیں بہتی البتہ لیک انٹاریو ضرور بہتی ہے۔ بہتی  بھی کیا ہے۔ یہ تو اتاہ سمندر کی مانند ایک سرے سے شروع ہوتی ہے تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔  ہاں تو ہم کہ رہے تھے کہ محاورہ پتہ نہیں صحیح ہے یا غلط۔ شوق میں لکھ دیا۔ اس دیس میں پاکستان سے دور تو ہیں ہی اردو سے بھی دوری ہوتی چلی جا رہی ہے بلکہ یوں کہیں کہ ہوچکی ہے۔ اندر باہر ہر جگہ انگریزی کا راج ہے۔ گھر میں بچوں سے اردو میں بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو جواب انگریزی میں ملتا ہے۔ سودا سلف لینے جائیں تو وہاں بس ایک ہائے سے ا...

پرت پرت زندگی

Image
     آج اتوار کا دن تھا۔ ہمارے لئے ویسے تو ہر روز ہی اتوار کا دن ہے۔ ہم کو کون سا آفس جانا ہو تا ہے۔ پر ہفتہ اتوار کے دن بچے گھر پر ہوتے ہیں انہیں کالج یونیورسٹی نہیں جانا ہو تا تو چھٹی کے دن کا احساس ہونے لگتا ہے۔ پر یہ بہار کچھ ہی دیر کی ہوتی ہے۔ پھر سب اپنے اپنے پروگراموں کی تکمیل پر گامزن ہو جاتے ہیں۔ گھر پھر خالی کا خالی ہمارا منہ چڑا رہا ہو تا ہے۔ ہفتہ کے باقی دنوں میں تو پھر بھی آسرا ہوتا ہے کہ شام تک سب کی واپسی ہو جائے گی پر چھٹی کے دن یعنی سنیچر اتوار تو بھول ہی جائیں۔ سب کے پاس گھر کی چابیاں ہیں دروازہ کھولنے کے لئے بھی آ پ کی مدد درکار نہیں۔۔  اب چھٹی کے روز یہ ہمارے اوپر ہے کہ اپنے کو ایک فالتو پرزے کی طرح سمجھ کر اپنے اوپر غم وغصہ طاری کر کے اپنا دن محرومیوں کی نظر کر ڈالیں۔ جی ہاں غم اور غصہ دونوں ہی آتا ہے۔ ہم کون سا کوئی روبوٹ ہیں کہ بٹن دبایا اور گھر کے سناٹے کو ہنسی خوشی گزارنے کے پروگرام بنا نا شروع کر دیں۔ پہلے تو تھوڑی دیر لگتی ہے سمجھنے میں کہ گھر میں خاموشی ہے پھر جب یقین آجا تا ہے تو اپنے دل کو سمجھا تے ہیں ۔ کہ ویسے بھی بچے زیادہ تر اپنے اپن...

روشندان

Image
   جنوری کا مہینہ ہے سردی اپنے عروج پر ہے۔ ہر طرف برف ہی برف ۔ درجہ حرارت  منفی بائیس ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ پر ہم یہاں کے رنگ میں خاصے ڈھل چکے ہیں۔ پہن اوڑھ کر نکل کھڑے ہوتے ہیں۔پھر یہاں بجلی پانی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ شاپنگ مال۔ کافی ہاؤس ہر جگہ موسم خوشگوار۔ سردی کا نام و نشان تک نہیں ۔ گھروں میں بھی سکون ہی سکون ہے۔ بس گاڑی سے اتر کر اندر جانے کی دیر ہے پھر شانتی ہی شانتی۔ ہم گھر کے قریب والے پلازہ میں ہیں۔ ویسے تو یہاں قدم قدم پر پلازہ موجود ہیں لیکن اس پلازہ کی خوبی یہ ہے کہ یہاں ڈالاراما ہے ۔ یہ ایک طرح کا ڈالر اسٹور ہی ہے ۔ یہاں ایک سے پانچ ڈالر تک کی دنیا جہاں کی چیزیں موجود ہیں۔ ہر رنگ و نسل کے لوگوں کا یہ  پسندیدہ اسٹور ہے۔ ہر وقت لوگوں کا رش لگا رہتا ہے۔ اس اسٹور کی وجہ سے ڈالر اسٹور  کے بزنس کو یقینی طور پر بڑا نقصان ہوا ہے۔ خیر تو ہم کہ رہے تھے کہ ہم پلازہ میں ہیں۔ یہاں  میٹرو کا اسٹور  بھی ہے اس کی  بیکری کی چیزیں بڑی اچھی ہوتی ہیں۔ ہم یہاں سے بلوبیری مفن لیی گے پھر ڈالاراما کا رخ کریں گے۔ وہاں دیکھنے کی بھی بڑی چیزیں ہوتی ہیں۔ وقت گزرنے...

دھنک رنگ

Image
   نیا سال بھی آ گیا۔ یہاں نیا سال بڑے دھوم دھڑ کے کے ساتھ آ تا ہے۔ ہمارے زمانے کی طرح دیے پاوں نہیں آ تا۔ اب تو اپنے دیس میں بھی یہی طور طریقے ہیں۔ ہم نے ہر چیز میں ان کا چال چلن اپنانے کی ٹھانی ہوئ ہے۔ پھر اس میں کیوں پیچھے رہیں۔ وہاں بھی نئے سال کے موقعہ پر جب تک فائرنگ سے کئ لوگ جان سے نہ جائیں اور زخمی نہ ہوں لوگوں کو نئے سال کا لطف نہیں آ تا۔ گوروں کے یہاں جان کی بڑی قیمت ہے چاہیے وہ ہمارے جیسے کالے پیلے لوگوں کی ہی کیوں نہ ہو۔ یہ بات تو ماننی پڑے گی۔ نئے سال پر جتنا بھی دھوم دھڑ کا ہو سب کی جانیں سلامت رہتی ہیں۔ بہت سی باتوں میں ان کو داد دینی پڑتی ہے۔ ہاں تو ہم نئے سال کی بات کر رہے تھے۔ ہمارے لئے تو پورا شہر بند اور کرنے کو کچھ نہیں۔ موسم سرد برف جا بجا بکھری ہوئ۔ سرد ہوائیں آ پ کے استقبال کے لئے سرگرم مانا کہ ہمیں یہاں رہتے ہوئے خاصا زمانہ بیت گیا پر ابھی پرزے کی طرح یہاں کی مشینری میں پوری طرح فٹ نہیں ہو ئے۔ ice hockey.  Skating.  Skiing.  وغیرہ ابھی ہماری ڈکشنری میں نہیں داخل نہیں ہو ئ۔ ہم تو بس پہن اوڑھ کر اپنے کو لپیٹ لپاٹ کر یہاں کے سرد موسم میں ب...