Posts

Showing posts from December, 2024

رم جھم

Image
    کرسمس کا دن ہے۔ سارا شہر بند ہے۔ آ خر جائیں تو جائیں کہاں۔ وقت گزارنے کے لیے کیا کیا جائے۔ خیال آیا کہ lake تو کھلی ہوئی ہے۔ وہاں چلے جاتے ہیں۔ ہمارے گھر سے کافی قریب بھی ہے۔  اس وقت دن کے گیا رہ بجے کا وقت ہے۔ ہم  lake پر ہیں اس کا  ٹھاٹھیں مارتا ہوا پانی دیکھ کر ہمیں اپنا کراچی کا سمندر یاد آ گیا۔ کلفٹن ہاکس بے سینڈز پٹ ۔ سب خواب ہو کر رہ گئے۔  چلو یہ lake بھی کیا بری ہے۔ اب یہاں آ گئے تو انہی چیزوں سے دل لگانا ہو گآ۔  مطلعِ ابر آ لود ہے۔ گھٹا چھائی ہو ئ ہے۔ دھند ہی دھند۔ دسمبر کا مہینہ ختم ہو نے کو ہے۔ ہر طرف برف ہی برف۔ بڑا خوبصورت منظر پیش کر رہی ہے۔ اکثر درختوں کے پتے جھڑ چکے ہیں وہ ڈھانچے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان پر سفید پاؤڈر سا چھڑکا ہوا بڑا ہی خوبصورت لگ رہا ہے۔ یوں لگ رہا ہے کہ قدرت نے آ ج کے دن ان کو سنوار دیا۔ کچھ درختوں پر ابھی سبزہ موجود ہے۔ ان پر انکے ہوئے برف کے گالے سفید پھولوں کی مانند دل لبھارہے ہیں۔ کپاس کے پھولوں کا سا منظر پیش کر رہے ہیں۔  کرسمس کے دن کے سبب لوگ اپنے گھروں میں مصروف ہیں۔ یہاں لوگ نہ ہو نے کے برابر ہیں۔ ا...

نیا رنگ نئ صبح

Image
    نیا دن نئی صبح۔ رنگوں سے بھرپور۔ ہوا کی سرگوشیاں۔ بارش کی ٹپ ٹپ کرتی بوندوں کی جلترنگ۔ قدرت کتنی مہربان ہے ہم پر۔ ہماری ہر کوتاہیوں سے بےنیاز۔ ہر خطا درگزر۔ ہم پھر بھی شکر کے بجائے شکوہ شکایت کا کوئی لمحہ نہیں جانے دیتے۔ کبھی گرمی سے بیزار کبھی سردی سے۔ روپیے پیسے کی تنگی اولاد کا رونا ۔ آ پ کوئی بات چھیڑیں اور پھر ہماری قسمت کا مرثیہ سننے کے لئے تیار ہو جائیں۔  ہم سے پہلے کے لوگ بھی کیا لوگ تھے۔ قناعت پسند۔ گھر سے کبھی نکلتے نہ تھے۔ نہ ہی نکلنے کی تمنا تھی پر ان کا نام گلی گلی پہچانا جاتا۔ ہم گلی گلی گھوم کر بھی پہچانے جانے سے محروم۔  ان کو نام و نمود کی جستجو تھی نہ تمنا۔ ہم نام و نمود کی خواہش میں ہی مرے جاتے ہیں اور نام و نمود مل کر ہی نہیں دیتا۔  وہ لوگ آ ج پر focus رہتے تھے۔  ہمارا focus نہ آ ج پر ہے نہ کل پر۔ ہماری تو بس ایک ہی تمنا ہے کہ لوگ ہمیں پہچانے۔ پر یہاں تو ہمارے جیسے ہزاروں موجود ہیں۔ ہماری جگہ ان میں کیسے بنے۔ ہم اسی غم میں رہتے ہیں۔ سب کچھ کر کے دیکھ لیا۔ status بڑھا لیا۔ لوگوں سے رابطے بڑھانے کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک دعوتیں کر کے دیک...

بھیگتے دسمبر میں

Image
    روئی کے گالے آسمان سے برس رہے ہیں۔ یون لگتا ہے ہر طرف چاندی بکھری ہوئی ہے۔ درختوں پر اٹکی ہوئ برف کپاس کے پھولوں کی مانند بہار دے رہے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے زمین پر ہر طرف سونا بکھرا ہوا تھا۔ درختوں سے زرد پتے بارش کی طرح بکھر  بکھرکر بہار دکھا رہے تھے اور اب ہر سو چاندی ہی چاندی۔ یوں لگتا ہے جنت میں ہیں ۔ ہرطرف سکون ہی سکون۔   ہم نےtv  کھول لیا ۔اب اس برفباری کے موسم میں کہاں جائیں ۔ اور جائیں بھی کہاں۔ اچھے موسم کے دنوں میں بھی جانا کہاں ہو تا ہے۔ بس ملا کی دوڑ مسجد تک۔ قریب کے کافی ہاؤس میں چلے جاتے ہیں اکیلے بیٹھ کر چائے کافی پی لیتے ہیں۔  اکیلے بیٹھ کر ہی پئں گے یہاں کون سے کوئی دوست احباب بیٹھے ہیں۔  دوست احباب کو تو ہم پاکستان میں چھوڑ کر اگئے ۔ ہاتھ میں ویزا کا پر چا کیا آ یا ہم نے تو آنکھیں ماتھے پر رکھ لیں تھیں ۔ کسی کو خاطر میں ہی نہیں لا تے ۔ رات دن کینیڈا کےخواب دیکھنے میں گزر رہے تھے۔ بس یوں جانو دن عید تو رات شبرات ۔ ہم کافی کے کچھ زیادہ شوقین تو ہیں نہیں۔ پر روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھنرر ۔ اب وقت گزرا نے کے لئے کچھ تو کرنا ہے۔ ی...

نور

Image
      وہ نیند میں ڈوبی ہوئی تھی اک بار گی سورج کی کرنیں اس کے چہرے پر پڑیں۔ کسی نے جہاز کی کھڑکی کا shutter کھول دیا تھا۔شاید منزل قریب آگئ ہے۔ منزل کیسی۔ اس کی نہیں جہاز کی منزل۔ اس کی منزل تو کب کے کھو ٹی ہو گئی وہ تو اب در بدر صحرا نورد ہو کر رہ گئی۔ امی تو اس کو ہی دوش دیتی ہیں۔ تم نے تو خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری۔ کوئی مرد کو یوں بے مہار چھوڑتا ہے۔  اور وہ سوچتی ہم تو سدا سر جھاڑ منہ پھاڑ رہے۔ ہمیں کبھی خود کو سنوارنا سجا نا نہیں آ یا۔ مجھ میں تھا کیا ۔ پھر بھلا احمد کو کیوں دوش دوں۔ وہ تو سدا کے بھوکے۔ کھانے کی خوشبو کے پیچھے کچن تک پہنچ جانے والے۔ پھر اللہ نے موقع بھی چھپر پھاڑ کر دیا۔ اچھی job . میٹنگ۔ کانفرنس۔ بزنس ٹور۔ سب کچھ ہی میسر تھا۔ پھر بھلا نور کی کیا خطا۔ اللہ شکرخورے کو شکردیتا ہے پیٹ بھر کھانے کولیکن امی کو تو میری ہی غلطی نظر آتی ہے۔  تم کو تو سدا بہنا پا بنانے کا شوق رہا۔ ہر کسی کو سگا بنا لیتی هونور کو اتنا قریب کر لیا کہ گھر کا فرد بن کر رہ گئی۔ اور پھر نور اور احمد اتنا قریب ا گئے کہ تم تماشائی بن کر رہ گئیں۔ احمد کو کیا کہیں جب خود تم...