Posts

Showing posts from November, 2024

شازیہ

Image
    شازیہ ھیتھرو ایرپورٹ پر ڈپارٹمنٹ لونج میں کوئی رس سا رس تھا بس یوں جانو کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔ کیا قسمت ہے انگریزوں کی۔ لندن شہر میں ٹورسٹ کی ریل پیل۔ سردی گرمی خزاں بہار ہر موسم سدا بہار۔ ہم ایرپورٹ پر کھڑے لوگوں پر نظریں جمائے اپنے خیالوں میں گم تھے کہ انیلا نے صدا لگائی۔ جلدی سے ٹوائلٹ ڈھونڈ ین۔ اس کو ہمیشہ الگ ہی سوجھتی ہے۔ میں نے کہا کہ سامان تو چیک ان ہو جائے دو مگر وہ انیلا ہی کیا جو سن لے۔ اس کو تو دھن سی لگ جاتی ہے ایک بات کی۔ انیلا میری چھوٹی بیٹی دبئی جا رہی تھی اور میں اس کو رخصت کرنے اس کے ساتھ ھیتھرو ایرپورٹ آئی ہوئی تھی۔ انیلا تو ٹوائلٹ ڈھونڈ نے چل دی میں سامان کے پاس کھڑی تھی۔ میں نے تی وی اسکرین پر نظریں دوڑائی شروع کر دیں دیکھنے کے لئے کہ فلائٹ کتنی دیر میں ہے۔ میری نظریں جدہ کی فلائٹ پر ٹک گئیں۔ فلائٹ نمبر A877 جدہ براستہ ریاض اور جانے کیوں جدہ دیکھ کر شازیہ یا د آگئی ایک زمانے کے بعد۔ شازیہ میرے بچپن کی دوست جو شادی کے بعد جدہ جا بسی۔ پھر اس کی کوئی خبر ہی نہ ملی۔ میں نے اپنا سارا بچپن اس کے ساتھ گزارا تھا۔ ہم ساتھ رہتے تھے۔ ہم نے لڑائیاں بھی کی تھیں...

میرے وطن پیارے وطن

Image
           نومبر کی آخری آخری تاریخیں ہیں. زمین پرجا بجا سونا بکھرا ہوا ہے۔ موسم میں خنکی ہے۔ آسمان پر ہلکے سرمئی بادلوں کا جمگھٹا ہے اس کے بیچ سورج بھی جھلمل کرتا روشنی کی کرنیں بکھیرکر فضا میں رنگ بھر رہا ہے۔ ہر موسم کا اپنا رنگ۔ قدرت کی بھی ان گنت  مہربانیاں کن کن کا شکر ادا کریں۔ اس خسین موسم میں جی کرتا ہے کہ گھر سے باہر نکلا جا ئے۔ موسم کی رنگینیوں کا نزدیک سے نظارہ کرنے کا الگ ہی لطف ہے۔ موسم خاصا سرد ہے پر کینیڈا میں جب تک درجہ حرارت منفی پندرہ ۔ یا بیس نہ ہو جائے ہم اس کو خاطر میں نہیں لاتے۔ پہن اوڑھ کر سڑکیں ناپنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ خیر خاطر میں تو اس وقت بھی نہیں لاتے اور ہمت پکڑ کر نکل ہی جاتے ہیں۔ اب دریا میں رہنا ہے تو مگرمچھ سے بیر کیسا ۔ سردی اور کینیڈا کا تو چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہاں رہنا ہے تو پھر اگر مگر کیسا ۔ ہم بھی یہاں رہ کر خاصا سیکھ چکے ہیں۔ نرم گرم اوپر سے گزر جاتا ہے۔ نصف صدی سے زائد کا زمانہ یاد آگیا۔ اب یادوں پر بھلا کون پہرہ بٹھا سکتا ہے۔ اس پر کس کا زور چلا ہے۔ جب چاہیے جدھر کو چل پڑتی ہیں اور ہم تو جیسے ہیں ہی یادوں کے ...

چاند نی راتیں

Image
    نومبر کی چودہ تاریخ ہے۔  سردی اپنا رنگ جما رہی ہے۔  زرد پتے درختوں سے بارش کی مانند گر رہے ہیں یوں لگتا ہے آسمان سے سونا برس رہا ہے،  قدرت بھی کیا کیا رنگ دکھاتی ہے، ہر لمحہ نیا ۔ پرانےمنظر کی جگہ ہر روز کچھ نیا ۔ آسمان اور زمین پر قدرت نئے نئے رنگ بکھیرتی رہتی یے۔  پر مجال ہے جو ہم کچھ خاطر میں لائیں۔ ہمارے پاس دکھوں کی اپنی ایک لمبی فہرست ہوتی ہے۔ شکایتیں ہیں کہ ختم ہو نے میں ہی نہیں آتیں۔  اپنے کو مظلوم تابت کرنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی گویا قسم کھا رکھی ہو۔  روشن صبح جھلمل کرتے تارے رم جھم کرتی برسات کچھ بھی ہماری خاطر میں نہیں آتا۔ ہم نے تو جیسے خوش نہ ہو نے کی قسم کھا رکھی ہو۔ چہرے پر بارہ ہی بجے رہتے ہیں۔ یوں لگتا ہے ساری دنیا کے مسائل ہمیں ہی سلجھانے ہیں ۔ سچ پوچھیں تو ہمارا کچھ ایسا قصور بھی نہیں۔ عمر کے اس خصہ میں جس کو ہم اپنا دل خوش کر نے کے لئے " گولڈ ن زمانہ " کہتے ہیں ۔ بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔  اللہ تعالٰی کے بعد بچوں کا جس قدر شکریہ ادا کریں کم ہے۔ وہ اپنی فیملی۔ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہیں اور ہم بھی ان کے سر پر سو...

نیلا آ سمان

Image
     نومبر کی سات تاریخ ہے نئے سال کے شروع ہونے میں چند ہفتے رہ گئے۔ لوگ نئے سال کے استقبال میں سرگرم ہو جائیں گے۔ پرانے سال سے جان چھڑا نے پر یوں خوش ہوتے ہیں جیسے کہ پرانے کپڑے اتار کر نیا جوڑا مل گیا ہو پہننے کے لئے۔ جبکہ ہردن ہی نئی کہانی لے کر آتا ہے۔ پرانے روز سے بالکل مختلف ۔ ہر نئی صبح نئے رنگ لئے طلوع ہوتی ہے اس وقت صبح کے گیارہ بج رہے ہیں ۔ میں " لیک انٹاریو" کے کنارے کھڑی ہو ں ۔ پانی سورج کی کرنوں کے نیچے سونے چاندی کی طرح جگمگ کر رہا ہے۔ قدرت بھی کیا کیا رنگ بکھیر تی ہے۔ ہر گھڑی نئ سینری۔  رنگ برنگے خود رو پھول فضا میں عجب رنگ بکھیر رہے ہیں۔ پتہ جھڑ کا زمانہ شروع ہو چکا ہے زرد پتے دھوپ میں سونے کے موافق بکھرے ہوئے ہیں۔ ہر موسم کا اپنا رنگ ہے اپنا انداز۔ فرش پر ہر رنگ کے پتے بکھرے ہوئے ہیں۔ سرخ ۔ نارنجی۔ زرد۔ تانبے اور کافی کے رنگ کے۔ چلتے ہوئے ڈر رہی ہوں پاوں تلے دب ہی نہ جا ئں یہ قدرت کے شاہکار۔ یہ سب کچھ دنوں کی بہار ہے پھر سینری  بدل جائے گی۔ نیا منظر ہو گا۔ نئی رت۔ دسمبر میں ہر طرف برف بکھری ہو گی۔ یوں لگے گا۔ قدرت نے سفید بورڈ آ سمان سے اتار کر ...