دیس میں نکلا ہوگا چاند

اکتوبر کا آخر ہے نومبر شروع ہو نے کو ہے اور پھر نئے سال کی آمد کا شور ہو گا ہم نئے سال کے استقبال کے لئیے سرگرم ہو جائیں گے نئ لگن نئے ولولے کے ساتھ ماضی کی ساری تلخیاں بھلا کر کہ پچھلے دنوں کیا کچھ کھو دیا شاید یہی زندگی کی خوبصورتی ہے ـ وقت کا گزر جانا بڑی نعمت ہے
بہت پہلے اپنے اسکول کالج کے زمانے میں کہیں پڑھا تھا کہ زندگی کا تعلق سائنس سے ہے لیکن زندگی گزارنا ایک آرٹ ہے کیا خوب لکھا تھا بلکل سچ یہ ایک جقیقت ہے پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو پتھر کے بن جائیں گے ـ جو گزر گیا اسے بھول جانے میں ہی بھلا ئ ہے وقت کا گزرنا بڑی نعمت ہے
ایک تو ہم اس بات سے بڑے تنگ ہیں بات کہیں سے شروع کرتے ہیں اور ہمارا دماغ ذہن کی اتنی ساری کھڑکیاں کھول کر ہمیں ادھر ادھر بھٹکا دیتا ہے اور بچپن بھیس بدل بدل کرا کھڑا ہو تا ہے بس اسے تو معوقع
چاہیے کمبخت جان ہی نہیں چھوڑتا ہزار بار سنا ہے کہ دور کے ڈھول سہانے لگتے ہیں پھر بھی ہم ہر پھر کر اپنے بچپن کی گود میں جا بیٹھتے ہیں الزام کس کو دیں قصور ہمارا ہے
تو ہم کہ رہے تھے کہ ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ پیچھے مڑ کر دیکھو گے تو پتھر کے بن جاو گے ہم کہاں کچھ کہیں پڑھ سکتے تھے رسالوں پر تو ابا کا پہرا تھا سخت قسم کا ـ نقوش کا ایک گھسا پٹا پرانا سالنامہ ہمارے گھر میں کہیں سے آگیا تھا میرا خیال ہے بھائی جان کہیں سے لاے ہوں گے ـ میں اور میری دوست نسرین اسی سے مستفیظ ہوئے میں کامیاب ہو جاتےـ بڑے خوبصورت لکھنے والوں کے افسانے تھے ا سے پڑھ پڑھ کر اپنے بچپن کے دنوں میں رنگ بھرا کرتے
ایک عدد چھوٹا سا ریڈیو بھی تھا جو آبا خبریں سننے کے لئے لاے تھے ـ ہمیں ابا کے دفتر جانے کا شدت سے انتظار ہو تا ان کے جانے کے بعد ریڈیو سیلون سنا کرتے ـ ناشتہ رات کی روٹی اور چائے سے ہوتا کھانے میں بھی روکھی سوکھی ہو تی تھی پھر بھی ہم آج تک یہی راگ الاپ رہے ہیں
میرے بچپن کے دن کتنے اچھے تھے دن
میرا بچپن کسی طور لا دے مجھے
ماضی ہمیشہ رنگین ہی نظر آتا ہے ـ پیچھے مڑ مڑ کر دیکھنا ہماری عادت میں شمار ہے کبھی کسی حال میں خوش رہنا نہیں آ تا ـ بچپن میں کچھ اور دکھ پال رکھے ہوں گے ہم نےـ ہم ہیں ہی سدا کے ناشکرے
آج نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے ہم کینیڈا کی سرزمین کے شہری بھی بن چکے ہیں ـ ناشتہ میں سب کچھ دستیاب ہے کھانے بھی اپنی مرضی کے دستیاب ہیں پینے کا پانی بھی ابالے بغیر پینے کی سہولت ہے
سب کچھ تو حاصل ہے اور کیا چاہیے پراب پاکستان پیچھا نہیں چھوڑتا - رہتے ٹورانٹو میں ہیں دل دماغ میں پاکستان کا بسیرا ہے پرانے دنوں کویاد کرنے بیٹھ جاتے ہیں ـ سچ ہمارے جیسا ناشکرا کوئی نہ ہو گا
چلیں آج مل کر عہد کرتے ہیں آج میں رہنا سیکھتے ہیں خدا کا شکر ادا کرنا شروع کرتے ہیں
میں اس وقت کافی ہاؤس میں بیٹھی چائے کے مزے لے رہی ہوں ـ کسی کا ڈر خوف نہیں نہ کوئی دیکھ رہا ہے ہماری طرف ـ کراچی میں تو ملا احمد کی نہاری لینے اپنے بجائے بیٹے کو
بھیجا کرتے تھے
وہاں بیٹھ کر کھانے کا تو سوچا بھی نہیں جا سکتا تھاـ جو ہےاس کی قدر کرنا چاہیے پیچھے مڑ کر دیکھنے سے کیا چاصل ـ پتھر کے بن جائیں گے
زندگی رنگین ہے ہمیں عینک بدلنے کی ضرورت ہے گلے شکوےکرنے کی نہیں
جانے کیوں جگجیت کی عزل یاد آگئی ہمیں ستانے
ہم تو ہیں پردیس میں
دیس میں نکلا ہو گا چاند
اب تو یہی کہنے کو دل چاہ رہا ہے
یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے خافطہ میرا
Bohat khoob
ReplyDelete