سفر ہے سہانا
نومبر کا چل چلاؤ ہے ۔ دسمبر دروازے پہ کھڑا دستک دے رہا ہے ۔ موسم میں گرمی ختم اور خنکی اپنے عروج پر ہے ۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ آ خر کو یہ کینیڈا ہے پاکستان نہیں ۔ وہاں تو کل ہی بہن سے بات ہوئی کہ رہی تھی آ پا گرمی ختم ہو نے کا نام ہی نہیں لے رہی ۔ رات نسبتاَ بہتر ہو جاتی ہے پر دن گزار نا مشکل ہو تا ہے ۔ ہم انسان ہیں ہی سدا کے ناشکرے ۔ وہاں پاکستان میں گرمی سے نالاں تھے یہاں سردی کی ہائے ہائے کرتے دسمبر جنوری گزر تی ہے ویسے تو فروری بھی کچھ کم نہیں ۔ سرد ہوائیں تو مارچ کے شروع تک دم نہیں لینے دیتں ہم جیسے لوگ جو وقت گزار ی کے لئے سڑکیں ناپنے نکل کھڑے ہوتے ہیں ۔ ہر روز جان ہتھیلی پر لے کر گھر سے نکلتے ہیں ۔ اس میں سے بھی بہت سے دنوں میں گھر بیٹھے کھڑکی سے ہی باہر کا نظارہ کر لیتے ہیں ۔ ہر طرف رف ہی برف ۔ سرد برفانی ہوائیں دیکھ کر دل تھا م کر رہ جاتے ہیں ۔ ہم کونسا سڑکیں ناپنے کے شوقین تھے۔ یہ تو یہاں کینیڈا میں وقت گزاری کے لئے گھر سے نکل کھڑے ہوتے ہیں ۔ گھر میں کتنا دل لگائیں ۔ نہ کوئی آ نے والا نہ جانے والا ۔ پاکستان تو ہے نہیں کہ جتنی بھی ...