زندگی کی کتاب
آ ج ہمیں بیٹھے بٹھائے جانے کیا سوجھی سوچا کہ زندگی کی کتاب کو صفحہ در صفحہ کھنگالتے ہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ بھلا کیا کھویا کیا پایا ۔ اب تو ہماری زندگی کی کتاب بھی خاصی دبیز ہو چکی ہے ۔ خاصا وقت لگے گا اس کتاب کے اوراق الٹنے پلٹنے میں ۔ ہم انجانے میں ہر روز اس میں بہت کچھ لکھتے جاتے ہیں ۔ آ ج خدا جانے زندگی کی کتاب پڑھنے کا خیال کہاں سے دماغ میں سما گیا ۔ ہو نہ ہو یہ سب ہمارے دل کا کیا دھرا ہے ۔ ہمیشہ کچھ نئی سوجھتی ہے اسے ۔ پہلا چیپٹر بچپن کا تھا ۔ حسین خوبصورت جگ مگ کرتا ۔ اس کو پلٹنے کو دل ہی نہیں کر رہا تھا ۔ بڑی مشکل سے دل پر پتھر رکھ کر آ گے بڑھے ۔ اگلا چیپٹر اس سے بھی زیادہ حسین ہو نا چاہیے تھا ۔ ساری کہانیاں جوانی میں ہی تو ظہور پذیر ہوتی ہیں ۔ لوگوں سے سنا ہے کہ یوں جانو جیسے کہ پریوں کے دیس میں پھر رہے ہوں ۔ دن رات یوں گزرتے ہیں کہ خبر ہی نہیں ہوتی کب صبح ہوئ کب شام۔ دن عید رات شبرات ۔ جی کرتا ہے زندگی یہیں رک جائے ۔ ہمیں کیا پتہ یہ سب تو سنی سنائی ہے ۔ جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کو پیار کے بدلے پیار ملا ۔ ہم نے تو جب کلیاں مانگیں کانٹوں کا ہار م...