Posts

Showing posts from April, 2025

زندگی کی کتاب

Image
    آ ج ہمیں بیٹھے بٹھائے جانے کیا سوجھی سوچا کہ زندگی کی کتاب کو صفحہ در صفحہ کھنگالتے ہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ بھلا کیا کھویا کیا پایا ۔ اب تو ہماری زندگی کی کتاب بھی خاصی دبیز ہو چکی ہے ۔ خاصا وقت لگے گا اس کتاب کے اوراق الٹنے پلٹنے میں ۔  ہم انجانے میں ہر روز اس میں بہت کچھ لکھتے جاتے ہیں ۔ آ ج خدا جانے زندگی کی کتاب پڑھنے کا خیال کہاں سے دماغ میں سما گیا ۔ ہو نہ ہو یہ سب ہمارے دل کا کیا دھرا ہے ۔ ہمیشہ کچھ نئی سوجھتی ہے اسے ۔  پہلا چیپٹر بچپن کا تھا ۔ حسین خوبصورت جگ مگ کرتا ۔ اس کو پلٹنے کو دل ہی نہیں کر رہا تھا ۔ بڑی مشکل سے دل پر پتھر رکھ کر آ گے بڑھے ۔  اگلا چیپٹر اس سے بھی زیادہ حسین ہو نا چاہیے تھا ۔ ساری کہانیاں جوانی میں ہی تو ظہور پذیر ہوتی ہیں ۔ لوگوں سے سنا ہے کہ یوں جانو جیسے کہ پریوں کے دیس میں پھر رہے ہوں ۔ دن رات یوں گزرتے ہیں کہ خبر ہی نہیں ہوتی کب صبح ہوئ کب شام۔ دن عید رات شبرات ۔ جی کرتا ہے زندگی یہیں رک جائے ۔  ہمیں کیا پتہ یہ سب تو سنی سنائی ہے ۔ جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کو پیار کے بدلے پیار ملا ۔ ہم نے تو جب کلیاں مانگیں کانٹوں کا ہار م...

زندگی اک سفر ہے سہانا

Image
ارے بھئی کوئی فون تو دیکھ لے کب سے گھنٹی بج رہی ہے ۔ لو بھلا گھر میں ہے ہی کون ہم بھی کس سے باتیں کر رہے ہیں۔ سب تو کالج یونیورسٹی سدھار لئے ۔ باقی رہے بیٹآ بہو تو وہ دونوں جاب پر ہیں ۔ اب تو بڑے دنوں بعد ہر روز آ فس جائے کا نیا قانون لاگو ہو گیا ہے ۔  کووڈ کے بعد سے سب کے مزے تھے۔ گھر کے ہی کسی کونے میں بیٹھ کر آ فس کا کام مزے سے ہو جاتا تھا ۔ رات کے کپڑوں میں ہی نئ شرٹ پہنی وہ بھی اگر زوم کی میٹنگ کرنی پڑ جائے ورنہ تو گھر کے کپڑوں میں ہی آفس کا کام نمٹ جاتا تھا ۔ اب یہ نیا قانون سب کو بڑا کھل رہا ہے ۔ صبح صبح تیار ہو کر گھر سے نکلنا پڑ رہا ہے ۔   شکر ہے اب موسم بہتر ہو گیا ورنہ تو پہلے ڈرائیو وے صاف کرو پھر گاڑی سے برف ہٹائو پھر کہیں جا کر سفر شروع ہو تا تھا گھر سے آ فس تک کا ۔ واپسی کے وقت پھر یہی کہانی ۔ کینیڈا کی سردی میں باہر کھڑے ہو کر برف صاف کرنی بژا جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے ۔ خیر اب تو برف کا زمانہ چلا گیا ۔ پھر بھی تیار ہو کر گھر سے نکلنا پڑ تا ہے آفس جانے کے لئے ۔ ہاں تو ہم کہ رہے تھے کہ گھر میں تو کوئی ہے نہیں سب گئے ہوئے ہیں ۔ ہم کو خود ہی فون سننے کے لئے نیچے ج...

گھڑی کی ٹک ٹک

Image
ایک تو میں اس گھڑی کی ٹک ٹک سے تنگ ہوں۔ ہم تو پہلے ہی وقت کے سلسلے میں خاصے پابند ہیں ۔ بس یوں کہیں کہ اگر انگریز وں سے آ گے نہ صحیح تو پیچھے بھی نہیں رہیں گے مقابلہ میں  دراصل ابا میاں وقتِ کے کچھ زیادہ ہی پابند تھے۔ ہمارے گھر میں ابا میاں کا ہی حکم چلتا تھا ۔ یوں وقت کی پابندی ہماری گھٹی میں شامل ہو گئ ۔  پر اب ہم اپنی اس وقت کی پابندی سے خاصے تنگ ہیں۔  کہیں جانا ہوتا ہے تو ہم مقررہ وقت کے مطابق تیار ہو کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ گھر والوں پر جب نظر ڈالتے ہیں تو وہاں اک خامشی سب کے جواب میں ۔  ابھی تو استری گرم کی جا رہی ہے کپڑے نکالے جا رہے ہیں کہ کون سا جوڑا پہنا جائے ۔ ہم اپنی شرمندگی چھپانے کے لئے کمپیوٹر کا سہارا لے کر مصروف ہو جاتے ہیں کہ بچے بھی کیا کہیں گے کہ ہم گھومنے کے کس قدر شوقین ہیں وقت سے پہلے  ہی تیار ہو کر بیٹھ گئے ۔ سوچتے ہیں کہ اگلی بار دیر سے تیار ہو ں گے ۔ پر برا ہو اس عادت کا ۔ وقتِ کی پابندی پیچھا ہی نہیں چھوڑتی ۔ بچپن کی عادتیں بھی کہیں  آ سانی سے چھوٹا کر تی ہیں ۔  ہاں تو ہم گھڑی کی ٹک ٹک کا ذکر کر رہے تھے ۔ ایک تو ہم اپنی اس عادت سے...

چمکیلی صبح

Image
    چمکیلی صبح سورج پوری آ ب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے ۔ رات کی بارش نے فضا کو نکھار کر رکھ دیا ہے ۔ درخت پودے نہا دھو کر نیا روپ لے کر جگمگا رہے ہیں ۔ رنگ برنگے خود رو پھول بھی اب نمودار ہوئے شروع ہو چکے ہیں ۔ یوں لگتا ہے کہ بہار کا موسم شروع ہو ہی چکا ہے ۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہو چکی ہیں ۔  ہم انسان بھی اللہ تعالیٰ کی عجیب مخلوقِ ہیں ۔  ہمارے ہزار روپ ہیں ۔  ہم بس ایسے ہی ہیں گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ ۔ ہر چیز ہر بات ہم پر اثر انداز ہو جاتی ہے ۔ سب سے بڑھ کر لوگوں کے رویے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ لوگوں میں رہنا بھی ہے اور ان کی باتوں پر غم بھی کھا نا ہے۔  اکیلے بیٹھا ہی نہیں جاتا ۔ لوگوں سے مل نہیں سکتے تو فون ہر وقت دستیاب ہے۔ خدا بھلا کرے سیل فون کا۔ ساری خلقت فون پر موجود ہے۔ جس کو چاہے بٹن دبا دو اور پھر گھنٹے بھر کی چھٹی ۔  گفتگو کے بعد ہماری قسمت کہ ہمارا موڈ کیسا رہے گا ۔ کبھی تو ہم فون شروع کر تے ہیں اچھے موڈ میں ۔ سوچتے ہیں کہ کچھ گھڑیاں ہنسی خوشی گزار لیں گے ۔  نتیجہ کچھ اور نکلتا ہے ۔ منہ کا مزہ خراب ہو جاتا ہے۔ کبھی تو پورے دن کا ہی بی...