Posts

Showing posts from February, 2026

کہی انکہی

Image
جنوری گزر ا فروری بھی چند ہفتوں کا مہمان ہے ۔ نیا سال کہاں کا نیا ۔ کب کے پرانا ہو چکا ۔ اب وہ آ ب و تاب کہاں جو نئے سال کے سورج طلوع پوتے وقت تھی ۔ وہ دھوم دھڑکا کب کے مدھم پڑ چکا ۔ اب تو دن رات کا وہی پرانا روٹین ہے جو ہر سال رہتا ہے یعنی  صبح ہوتی ہے شام ہو تی ہے زندگی یونہی تمام ہوتی ہے  شعر آ گے پیچھے ہو گیا ہو تو ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ اب ذہن کچھ کند سا ہو کر رہ گیا ہے ۔ باتیں گڈ مڈ سی ہو جاتی ہیں ۔ الفاظ یاد آ تے ہیں پر وقت پر نہیں ۔ حافظہ میں وہ بر جستگی نہیں رہی ۔  اگر کچھ یاد ہے تو گزر ا ہوا زمانہ ۔ سب فر فر یاد ہے ۔  تمہیں یاد ہو نہ یاد ہو ہمیں یاد ہے سب ذرا ذرا  کبھی کبھی تو ہم عاجز ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ جی کرتا ہے کہ ذہن پر پہرا بٹھا دیں ۔ دل پکار پکار کر کہتا ہے  یاد ماضی عذاب ہے یارب  چھین لے مجھ سے حافظہ میرا  پر دل و دماغ کی لڑائی تو بڑی پرانی ہے ۔ نہ ہمارا دل پر قابو ہے نہ ہی ذہن کچھ سمجھتا ہے ۔ ہم نے بھی اسی میں بہتری جا نی کہ دونوں کو اپنی اپنی راہ چلنے دیں ان کے حال پر چھوڑ دیں ۔  بیگانی شادی میں بلا وجہ عبداللہ دیوانہ...

جا کر کہیں کھو جاؤں میں

Image
جنوری کا مہینہ ختم ہو گیا ۔ ہر طرف برف ہی برف ہے ۔ برف کے طو فانوں نے تو جا نو راستہ ہی دیکھ لیا  ہمارے شہر ٹورنٹو کا ۔ تو چل میں آ یا۔ ابھی ایک برفباری کا طوفان سر سے گزر ا نہیں کہ دوسرا آ موجود ۔ کریں تو کیا کریں ۔  ٹورنٹو شہر میں برفباری سے نمٹنے کے لئے کافی کچھ سہولتیں موجود ہیں پھر بھی ایک روز  اسکول اور لائبریری وغیرہ بند کرنے پڑے ۔    برف ٹیلوں کی شکل میں ہر طرف نظر آ رہی ہے ۔ ٹورنٹو شہر آ ٹوا کا منظر پیش کر رہا ہے ۔ جہاں مئ کے مہینہ میں بھی برف لیک کی سطح پر تیر تی نظر آ تی تھی جب ہم وہاں رہتے تھے یہی منظر دیکھنے کو ملتا تھا ۔  فروری کا مہینہ شروع ہو چکا ہے ۔ برفباری کے سلسلے تو سکون ہے ۔ سڑک کے کنارے برف فصیل کی صورت میں موجود ہے ۔ درجہ حرارت نقطئہ انجماد سے پچیس ڈگری نیچے جا چکا ہے ۔ شہر  پھر بھی رواں دواں ہے ۔ ہم شہری بھی عادی ہو چکے ہیں ۔ یہاں کی سردی سے نمٹنا سیکھ چکے ہیں ۔  میں اس وقت کافی ہاؤس میں ہوں ۔ کافی کا کپ سامنے رکھا ہوا ہے ۔ سردی جتنی بھی ہو اندر سکون ہی سکون ہوتا ہے ۔ بس راستے کے لئے پہن اوڑھ کر نکلنا پڑتا ہے ۔ تو کچھ تو ج...