پل دو پل
اکتوبر کے مہینہ کی آ خری رات ہے اس وقت رات کے سات بج رہے ہیں ۔ ایک تو کمبخت سردیوں کی راتیں بھی شروع ہو تی ہیں تو ختم ہو نے کا نام ہی نہیں لیتیں ۔ سورج تو جانو کچھ گھنٹوں ہی کے لئے آ تا ہے مہمانوں کی طرح ۔ ادھر شام ہو ئ اور سورج اپنا بوریا بسترا سنبھال یہ جا وہ جا ۔ شام سے ہی رات کا سماں بندھ جاتا ہے ۔ چلو یہاں تو یہ آ رام ہے کہ کھٹ سے بٹن دبایا اور گھر روشن ہو گیا ایسے موقعوں پر پاکستان بڑا یاد آ تا ہے ۔ وہ بھولتا ہی کب ہے ۔ کسی نہ کسی بہانے سامنے آ ن کھڑا ہوتا ہے ۔ بہانہ چاہیے ۔ ہاں تو جیسے ہی لائٹ جلانے کے لئے سئوئچ پر ہاتھ رکھا پاکستان یاد آ گیا ہم تو پردیس میں سکون سے ہیں ۔ خدا جانے دیس میں کیا ہو رہا ہو گا ۔ لوگ سردی گرمی کیسے گزاررہے ہوں گے ۔ وہاں تو بجلی پانی گیس سب ہی کا اللّٰہ حافظ ہے۔ خدا پاکستان کی خیر کرے اور پاکستانیوں کو اپنی حفاظت میں رکھے ۔ ان کو بھی سکھ چین نصیب ہو ۔ اللّٰہ آ مین کرتے کرتے نصف صدی سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے بس لے دے کے ایک دعاؤوں کا ہی آ سرا ہے ۔ ہم نے تو آ ج پانچ بجے شام سے ہی لائٹ جلا لی ۔ مطلعِ ابر آ لود ہے تو شا...