Posts

Showing posts from October, 2025

پل دو پل

Image
  اکتوبر کے مہینہ کی آ خری رات ہے اس وقت رات کے سات بج رہے ہیں ۔ ایک تو کمبخت سردیوں کی راتیں بھی شروع ہو تی ہیں تو ختم ہو نے کا نام ہی نہیں لیتیں ۔ سورج تو جانو کچھ گھنٹوں ہی کے لئے آ تا ہے مہمانوں کی طرح ۔ ادھر شام ہو ئ اور سورج اپنا بوریا بسترا سنبھال یہ جا وہ جا ۔  شام سے ہی رات کا سماں بندھ جاتا ہے ۔ چلو یہاں تو یہ آ رام ہے کہ کھٹ سے بٹن دبایا اور گھر روشن ہو گیا ایسے موقعوں پر پاکستان بڑا یاد آ تا ہے ۔ وہ بھولتا ہی کب ہے ۔ کسی نہ کسی بہانے سامنے آ ن کھڑا ہوتا ہے ۔ بہانہ چاہیے ۔    ہاں تو جیسے ہی لائٹ جلانے کے لئے سئوئچ پر ہاتھ رکھا پاکستان یاد آ گیا ہم تو پردیس میں سکون سے ہیں ۔ خدا جانے دیس میں کیا ہو رہا ہو گا ۔ لوگ سردی گرمی کیسے گزاررہے ہوں گے ۔ وہاں تو بجلی پانی گیس سب ہی کا اللّٰہ حافظ ہے۔ خدا پاکستان کی خیر کرے اور پاکستانیوں کو اپنی حفاظت میں رکھے ۔ ان کو بھی سکھ چین نصیب ہو ۔ اللّٰہ آ مین کرتے کرتے نصف صدی سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے بس لے دے کے ایک دعاؤوں کا ہی آ سرا ہے ۔  ہم نے تو آ ج پانچ بجے شام سے ہی لائٹ جلا لی ۔ مطلعِ ابر آ لود ہے تو شا...

نہ باتی نہ تیل

Image
  بہت دن گزر گئے شاہینہ نے ہمارے گھر کا رخ نہیں کیا ۔ ا ن کے بھی نخرے ہیں ۔ اب ان کو دعوت نامہ بھیجا جائے ۔ آ ج کل تو افرا تفری کا زمانہ پے ۔ بہت کچھ بدل چکا ہے ۔  نہ وہ قدریں رہیں نہ وہ طور طریقے ۔ اب تو شادی بیاہ کے بلاوے بھی بس واجبی سے ہو کر رہ گئے ہیں ۔ اس انٹرنیٹ نے تو کایا ہی پلٹ کر رکھ دی ۔ کاغذ کا پرزہ دیکھنے کے لئے تو آ نکھیں ترستی ہیں ۔ کاغذ کا استعمال توہم جیسے لوگوں کی حد تک رہ گیا ہے۔ ہم بھی زمانے سے قدم ملا نے کے چکر میں انٹرنیٹ پر آ گئے ہیں ۔ کاغذ تو گویا شجر ممنوعہ بن کر رہ گیا ہے ۔  ہاں تو بات ہو رہی تھی شاہینہ کی ۔ بھئ وہ کیوں نواب زاد ی بن کر بیٹھ گئ ہیں۔ اس سے پہلے تو ہزار بار اکثر فون کے بغیر ہی آ ٹپکتی تھیں ۔ اب کیا ہو گیا کہ مزا ج ہی نہیں مل رہے ۔ ہاں جب پچھلی بار آ ئ تھی تو ہمارے منہ سے نکل گیا کہ تمہاری باتوں کے چکر میں میرا سارا کام پڑا رہ گیا ۔ شاید وہی اس نے دل پر لے لیا ۔  اب پرانے دوستوں میں بھی انسان سوچ سمجھ کر بولے تو پھر دوستی ہی کیا ۔ خیر ہم ہی چھوٹے بن جاتے ہیں ۔ کل اس کو فون کریں گے ۔ آ ج تو شام ہو گئی پھر سچ پوچھو تو آ ج طبیعت ب...

کل نہ جانے ہم کہاں

Image
کل ہم شاہینہ کے گھر گئے ۔ وہاں ریحانہ اور روبینہ بھی آئے ہوئے تھیں سب اپنے اپنے زمانے کے بھولے بسرے کہانی قصے سنا رہے تھے ۔ اور کس کو سنائیں ۔ یہاں کون سننے والے بیٹھے ہیں ۔ بھاگ دوڑ کا زمانہ ہے۔ بچوں کے پاس تو بلکل بھی وقت نہیں ۔ سب اپنے اپنے کمروں میں کمپیوٹر سے لگے بیٹھے ہیں ۔  رہے بڑے تو آ فس اور گھر کے بکھیڑوں میں گھرے رہتے ہیں ۔ پاکستان تو ہے نہیں کہ چار نوکر آ گے پیچھے رہتے تھے ۔ کبھی قدر ہی نہ ہوئی اب سوچتے ہیں تو یقین ہی نہیں آ تا ۔ اک وہ بھی تھا زمانہ  اک یہ بھی ہے زمانہ  یہاں تو سبزی ترکاری کے لئے بھی خود ہی گاڑی گھمانی پڑتی ہے۔ وہ زمانہ گیا کہ ٹوکری ڈالی اور گھر بیٹھے جو چاہا لے لیا۔  پھر ٹوکری میں ہی  پیسے ڈالے اور چیک آ ئوٹ بھی ہو گیا ۔  یہاں تو خریدنے کے بعد پیسے دینے کے لئے بھی لائن لگائو جب نمبر آ ئے گا تو حساب بیباق ہو گا ۔ ایک سیکیورٹی گارڈ بھی کھڑا دیکھ رہا ہوتا ہے کہ آ پ نے پیسے دئے یا نظر بچا کر چل دئے ۔ آ ج کل اعتبار کا زمانہ ہی نہیں رہا ۔ ہاں تو ہم کہ رہے تھے کہ کسی کے پاس سننے کا وقت نہیں جبکہ دلوں میں بہت کچھ کہنے کے لئے خزانہ جمع ...