Posts

Showing posts from February, 2025

کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں

Image
    شاہینہ کی کال آئی تھی لندن سے ۔ کہ رہی تھی اپریل کی چھٹیوں میں بچوں نے پروگرام بنایا ہے کہ سب لوگ مالٹا جائیں گے۔ میری چھٹیوں کی وجہ سے اپریل رکھا ہے۔ شاہینہ اسکول میں ٹیچر ہے۔ انگلینڈ میں اسکولوں کی ہمارے یہاں کی طرح گرمیوں کی لمبی چھٹیاں نہیں ہو تیں ۔ ہر دو چار ہفتے کے بعد شارٹ بریک ہوتا ہے۔ شاہینہ خوش تھی۔ بچے تو اکثر جاتے ہی رہتے ہیں اس بار سب کا ساتھ جانے کا پروگرام ہے ۔  اس کی ایک بیٹی کی شادی ہو چکی ہے۔  آج کل شادی ہو جائے سے کچھ فرق نہیں پڑتا ۔ ہمارا زمانہ تو ہے نہیں کہ شادی کے بعد ساری دنیا سے رابطہ کٹ کر رہ جا تا تھا۔ خود اپنے آپ سے بھی ۔ اب سوچتے ہیں تو سوائے اچھے اچھے کپڑے پہننے کے کوئی اور کشش نظر نہیں آ تی تھی شادی کے وقت ۔ خوشی سے زیادہ تو خوف طاری ہو نے لگتا تھا ۔ یوں لگتا کہ عمر قید کی سزا ہو نے جا رہی ہے۔ ہاں میک اپ کرنے کی بھی خوشی ہوتی تھی ۔ہمارے زمانے میں لڑکیوں کو رنگ برنگے بھڑکیلے کپڑے پہننے کی چھوٹ نہیں تھی میک اپ تو بھول ہی جائیں ۔ سفید شلوار سفید دوپٹہ اوپر سے کوئی سادی سی قمیض  چڑھا لی اللہ اللہ خیر صلا ۔ آنکھوں میں کاجل ضرور لگایا...

تاروں سے کریں باتیں

Image
    سردیوں کا زمانہ ہے راتیں لمبی دن چھوٹے۔ فروری کا مہینہ قریب قریب آدھا ہو چکا ہے۔ سردی اور برف دونوں اپنے عروج پر ہیں۔ یہ کینیڈا ہے یہاں سردی آتی ہے تو دیر تک رہتی ہے سکون سے جاتی ہے۔ مارچ میں اس کا زور کچھ کم ہو جاتا ہے۔ پر اس میں ابھی وقت ہے۔ سردیوں کی راتیں لمبی ہوتی ہیں یہ تو پتہ تھا ۔  پر کچھ زیادہ ہی لمبی لگ رہی ہیں ان دنوں۔ ہو سکتا ہے عمر کے اس حصہ میں ہمارے اعضاء  تو جواب دینا شروع  ہی ہو چکے ہیں  ان کے ساتھ ساتھ ہماری قوت برداشت میں  بھی کمی آ گئی ہے شاید ۔ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی گراں گزر نے لگی ہیں۔   گاڑی میں بیٹھتے ہیں تو بچے گاڑی چلا تے وقت میوزک تیز کر لیتے ہیں ۔ جب ہاکی گیم آتا ہے تو فل آواز میں ٹی وی لاؤنج میں۔ کرکٹ سے تو بچے نا واقف ہیں۔ ہاکی اور باسکٹ بال ہی لگا ہوتا ہے۔  قصور سارا ہمارا ہے۔  کسی اور کا نہیں۔ اب تیز آوازیں کانوں کو گراں گزرنے لگی ہیں تو لوگوں کا اس میں کیا قصور ۔ خیر آوازوں کا تو کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم کون سا سارا وقت ٹی وی روم میں بیٹھے ہوتے ہیں۔  گاڑی میں تیز میوزک کا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم...

دنیا رنگ رنگیلی

Image
    کبھی کبھی اپنے آ پ کو خراج تحسین پیش کرنے کو جی کرتا ہے ۔ دنیا میں آ نے کے بعد سے اب تک ایک پوری صدی نہیں تؤ آ دھی سے کہیں زیادہ گزر چکی ہے ۔ کیا گیا نشیب و فراز دیکھے ۔ زندگی کی ہر اونچ نیچ سے گزرتے ہوئے اب تک کا سفر طے کرتے ہوئے یہاں تک پہنچ گئے ۔ خدا کا شکر تو لازمی بنتا ہے پر اپنے کو شاباش دینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ۔  اماں ابا نے ہجرت اختیار کی اور پاکستان میں قدم جمانے کی خاطر شہر شہر قریہ قریہ کی خاک چھانی تو ہم بھی ہر منزل پر ان کے ساتھ تھے ۔ ہم نے بھی ان کے ساتھ در در کی خاک چھانی ۔ ہجرت کے بعد پاکستان کو اپنا وطن بنانے میں ان کو بڑی مشکلات کا سامنا رہا ۔ زندگی تو گزر ہی جاتی ہے ۔ وقت کب رکا ہے ۔ یہ تو پانی کے دھارے کی طرح رواں دواں رہتا ہے ۔ جو کہ ایک طرح سے اچھا ہی ہے ۔ بس آ ج کا دن گزار لو پھر خیر ہی خیر ۔ یوں لگتا ہے جیسے رات گئ بات گئی ۔ انسان بھی عجب مخلوقِ ہے ۔ بڑا سخت جان ۔ نرم گرم گزار کر اگلے روز کے لئے پھر سے تازہ دم ۔  ہاں تو ہم کہ رہے تھے کہ ہم بھی اماں ابا کے ساتھ ساتھ تھے ۔ نہ صرف چشم دید گواہ بلکہ سب کچھ ہمارے اوپر بھی گزر رہا تھا ۔ آ ...