کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں
شاہینہ کی کال آئی تھی لندن سے ۔ کہ رہی تھی اپریل کی چھٹیوں میں بچوں نے پروگرام بنایا ہے کہ سب لوگ مالٹا جائیں گے۔ میری چھٹیوں کی وجہ سے اپریل رکھا ہے۔ شاہینہ اسکول میں ٹیچر ہے۔ انگلینڈ میں اسکولوں کی ہمارے یہاں کی طرح گرمیوں کی لمبی چھٹیاں نہیں ہو تیں ۔ ہر دو چار ہفتے کے بعد شارٹ بریک ہوتا ہے۔ شاہینہ خوش تھی۔ بچے تو اکثر جاتے ہی رہتے ہیں اس بار سب کا ساتھ جانے کا پروگرام ہے ۔ اس کی ایک بیٹی کی شادی ہو چکی ہے۔ آج کل شادی ہو جائے سے کچھ فرق نہیں پڑتا ۔ ہمارا زمانہ تو ہے نہیں کہ شادی کے بعد ساری دنیا سے رابطہ کٹ کر رہ جا تا تھا۔ خود اپنے آپ سے بھی ۔ اب سوچتے ہیں تو سوائے اچھے اچھے کپڑے پہننے کے کوئی اور کشش نظر نہیں آ تی تھی شادی کے وقت ۔ خوشی سے زیادہ تو خوف طاری ہو نے لگتا تھا ۔ یوں لگتا کہ عمر قید کی سزا ہو نے جا رہی ہے۔ ہاں میک اپ کرنے کی بھی خوشی ہوتی تھی ۔ہمارے زمانے میں لڑکیوں کو رنگ برنگے بھڑکیلے کپڑے پہننے کی چھوٹ نہیں تھی میک اپ تو بھول ہی جائیں ۔ سفید شلوار سفید دوپٹہ اوپر سے کوئی سادی سی قمیض چڑھا لی اللہ اللہ خیر صلا ۔ آنکھوں میں کاجل ضرور لگایا...