Posts

Showing posts from October, 2024

دیس میں نکلا ہوگا چاند

Image
      اکتوبر کا آخر ہے نومبر شروع ہو نے کو ہے اور پھر نئے سال کی آمد کا شور ہو گا ہم نئے سال کے استقبال کے لئیے سرگرم ہو جائیں گے نئ لگن نئے ولولے کے ساتھ ماضی کی ساری تلخیاں بھلا کر کہ پچھلے دنوں کیا کچھ کھو دیا شاید یہی زندگی کی خوبصورتی ہے ـ وقت کا گزر جانا بڑی نعمت ہے بہت پہلے اپنے اسکول کالج کے زمانے میں کہیں پڑھا تھا کہ زندگی کا تعلق سائنس سے ہے لیکن زندگی گزارنا ایک آرٹ ہے کیا خوب لکھا تھا  بلکل سچ یہ ایک جقیقت ہے پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو پتھر کے بن جائیں گے ـ جو گزر گیا اسے بھول جانے میں ہی بھلا ئ ہے وقت کا گزرنا بڑی نعمت ہے ایک تو ہم اس بات سے  بڑے تنگ ہیں بات کہیں سے شروع کرتے ہیں اور ہمارا دماغ ذہن کی اتنی ساری کھڑکیاں کھول کر ہمیں ادھر ادھر بھٹکا دیتا ہے اور بچپن بھیس بدل بدل کرا کھڑا ہو تا ہے بس اسے تو معوقع  چاہیے کمبخت جان ہی نہیں چھوڑتا ہزار بار سنا ہے کہ دور کے ڈھول سہانے لگتے ہیں پھر بھی ہم ہر پھر کر اپنے بچپن کی گود میں جا بیٹھتے ہیں الزام کس کو دیں قصور ہمارا ہے تو ہم کہ رہے تھے کہ ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ پیچھے مڑ کر دیکھو گے تو پتھر کے ب...

دیس پردیس

Image
   آج شیلا کے یہاں میلاد کا بلاوا ہے - پردیس میں بلاوے اللہ کی دین ہوتے ہیں- عزیز رشتہ دار تو یہاں ہیں نہیں- ہیں بھی توبس آٹے میں نمک کے برابر- ملنے جلنے والوں کے سہارے گزارا ہو رہا ہے کہیں سے بھولا بھٹکا کوئی بلاوا آجانا ہے تو ہم سوٹ کیس کھول کر بیٹھ جاتے ہیں کہ کون سا جوڑا پہنیں - کپڑے تو بھرے پڑے ہیں- مسئلہ یہ ہے کہ نئے کپڑے پہن کر جائیں کہاں اور بال بنائں کس کے لیے کپڑوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہاں البتہ بال کسی طرح قا بو میں نہیں آ رہے- کلپ جوڑے سے نکلا جا رہا ہے- کلپ ٹکے بھی تو کیسے- بال ہیں ہی کہاں- چار بالوں میں کتنی برکت ہو جائے کہ کلپ کو سہار سکیں۔  ہمیں اپنا پرانا زمانہ یاد آگیا-  ایک تو اس پرانے زمانے نے ناک میں دم کر رکھا ہے ذرا موقع ملا اور سامنے آ کھڑا ہوا - نیرہ نور یاد آگئی کبھی ہم خوبصورت تھے کتابوں میں بسی خوشبو کی مانند کتنے بال تھے- سمیٹتے سمیٹتے ہاتھ دکھ جاتےاور بال تھے کہ قا بو ہی میں نہ آ تے- دو موٹی موٹی چوٹیاں- اسکول میں سب کی نظروں میں آتیں اور ہم اپنے کو بڑا مالدار سمجھتے- آج تک یاد ہے جب فریدہ نے پوچھا کہ تم بال کس سے دھوتی ہو اور ہم نے جواب م...

یہ گلیاں یہ چوبارے

Image
  ہم نے بیس برس پہلے جب پکرنگ میں گھر خریدا تو ہمیں کارنر کا مکان ملا - ہم اپنے کو بڑا خوش نصیب سمجھ رہے تھے کیونکہ کارنر کا مکان زیادہ کشادہ ہوتا ہے- اس کی ز میں زیادہ ہوتی ہے- آگے پیچھے کے گارڈن  بھی کافی بڑے ہوتے ہیں- ہم خوش تھے کراچی میں تو پھول پودے لگانے کی حسرت ہی رہی- وہاں تو پینے کے لیے بھی نل سے قطرہ قطرہ جمع کر کے پتیلا چولہے پر چڑھا تے تھے- رات کو ٹھنڈا ہونے کے بعد پانی کی چھوٹی سی ٹنکی میں ڈال کر دوسرا پتیلا چولہے پر چڑھ جاتا ۔ تا کہ اگلے روز گزارا ہوسکے- پھول پودے لگانے کی نوبت کہاں سے آتی- ہم کارنر کے مکان کا سودا کر کے اپنی قسمت پر ناز کر رہے تھے- کیا پتہ تھا کہ یہ کارنر کا مکان ہمارے گلے پڑ جائے گا- نومبر دسمبر برف صاف کرتے کرتے حالت خراب ہو جاتی ہے۔ ذرا سانس لینے کہ پھر خدا جانے کہاں سے اتنا سارا سبزه ہمارے لئے تیار ہو جاتا ہے- ہم تو سمجھ رہے تھے جان چھوٹی- سردیوں میں ساری ہریالی زممیں دوز ہو گئ تھی بلکہ یوں کہیں کہ برف تلے روپوش ہو چکی تھی پر اب تو ہر طرف سبزہ لہرا رہا تھا اور ہم دن رات گھسیارے کی طرح گھاس کاٹنے میں  مصروف ۔ہیں۔ پھر بھی گھاس ہر دو روز ک...

کافی ہاؤس

Image
October 6th 2024 Aik Lamha اکتوبر کا مہینہ بھی آ گیا دو مہینہ بعد ایک اور نیا سَال شروع ہو جائے گا اور یہ سَال پرانا ہو کر کہیں ماضی میں گم ہو کر رہ جائے گا ہم سب بھول بھال نئے سال کے استقبال کی تیاریوں میں مگن ہو جائیں گے یہ ماہ سال کا چکر یونہی سالوں سے چل رہا ہے ہم کو کینیڈا آے ہوئے لگ بھگ نصف صدی ہونے والی ہے اب تو امی کے جانے کے بعد پاکستان کا چکر بھی نہیں لگتا پاکستان بس اب خوابوں کی دنیا تک محدود ہو کر رہ گیا ہے گوروں کی سرزمین بھی عجب ہے جو ایک بار قدم رکھ لے پھر جا نہیں سکتا اس زمین میں بڑی مقناطیسیت ہے آنے والے کے پائوں پکڑ لیتی ہے یوں کہیں کہ جکڑ لیتی ہے لاکھ آپ ایک طرف کا ٹکٹ لے کر آئیں جا نہیں سکتے بس آگے سو آگے آنے کا راستہ ہے واپسی کا نہیں اپنے وطن جائیں گے بھی تو بس مسافروں کی طرح وطن خوابوں کی حد تک رہ جائے گا ہم بھی کہاں کی باتیں لے کر بیٹھ گئے ہجرت تو رسول اکرم کی سنت ہے ہم دل چھوٹا کرنے کی باتیں کیوں کر رہے ہیں یہ اکتوبر کا مہینہ بھی عجب ہے رنگوں سے بھرپور درختوں کے ہرے پتے طرح طرح کے رنگوں کی بہار دے رہے ہیں یہ اور بات ہے کہ اس وقت ان کی جان پر بنی ہوئی ہے پر یہ تو...